| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیاسہ افریقہ، بھوک سے دوچار
سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قحط، غذائی قلت، اور بیرونی امداد پر انحصار کا عفریت جلد ہی پیاسے افریقہ کے بڑے حصے کو بھوک کے منہ میں دھکیل کر حظرات سے دوچار کردے گا۔ سائنسدانوں کا خیال ہے براعظم میں بڑھتی ہوئی پانی کی قلت بھی جلد ہی نہ صرف اس پورے خطے کو پیاس کے شکنجے میں جکڑ دے گی، بلکہ پانی کے بغیر یہ خطہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے فصل بھی نہ اگا سکے گا۔ اس وقت سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سن دو ہزار پچیس تک پانی کے بحران کے نتیجے میں دنیا میں ہر تیسرا آدمی پیاسہ ہوگا۔ افریقہ میں فصلوں کا سالانہ نقصان اس سطح تک بھی جاسکتا ہے جتنا کے بھارت اور امریکہ کی سال بھر کی پیداوار ہے۔ زرعی تحقیق کے ایک بین الاقوامی ادارے مشاورتی گروپ برائے بین الاقوامی تحقیق، سے متعلق سائنسدانوں نے اپنے ان خوفناک خدشات کا اظہار ’خوراک اور پانی کو درپیش خطرات‘ کے بارے میں ایک پروگرام کے آغاز کے موقع پر کیا۔ یہ پروگرام پانی کے موجودہ ذخائر کی بہتر انتظام کاری کے بارے میں ہے۔ یہی پروگرام مستقبل کے لئے ایسی تکنیکی سہولیات پر بھی کام کرے گا جو ممکنہ طور پر کم پانی کے ذریعے زیادہ فصل اگا سکیں۔ ان سائنسدانوں کے خیال میں سن دو ہزار پچیس تک پانی کا بحران سب سے زیادہ جس علاقے کو متاثر کرے گا وہ افریقہ ہوگا۔ اور اگر اس سلسلے میں پالیسی اور سرمایہ کاری کے ذریعے اقدامات نہ کئے گئے تو پینے کے صاف پانی سے محروم افریقہ کی آبادی دگنی سے تجاوز کرکے چالیس کروڑ دس لاکھ ہوچکی ہوگی اور افر اضافہ بدترین ہوا تویہ باون کروڑ تیس لاکھ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے افریقہ میں فصلوں کی بوائی میں تیئس فیصد کمی آسکتی ہے اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اگلے تیئس برس میں ان کی درآمدات تین گنا بڑھ سکتی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں بہت سے افریقی ممالک خوراک کی مطلوبہ ضروریات پوری کرنے کے لئے خوراک کی درآمد پر آنے والے اخراجات کی ادائیگی کے بھی قابل نہیں ہوں گے۔ گروپ کے ایک سائنسداں پروفیسر فرینک رجسبرمین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو دنیا کی ایک تہائی اکثریت سن دو ہزار دو میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہوجائے گی اور ممکن ہے کہ ہم کو فصل کا اتنا نقصان برداشت کرنا پڑے جتنا امریکہ اور برطانیہ مل کر سارے سال میں پیدا کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر سب کو توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ سب کا مستقبل متاثر کرسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||