انٹیلیجنس ناکامی پر کمیشن کی رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے قائم کمیشن جمعرات کو اپنی رپورٹ پیش کر رہا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق اطلاعات سے اختلاف کرنے والی رپورٹوں کو نظر انداز کیا گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اپنی رپورٹ میں کمیشن تجزیہ نگاروں سے انٹیلی جنس اداروں میں بہتری لانے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے باہمی تبادلے سے متعلق تجاویز طلب کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی جائے گی کہ عراق پر حملہ کرنے کے لیے خفیہ معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ تاہم ڈیموکریٹ سینیٹروں نے اس کمیشن پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کمیشن صدر بش کا تخلیق کردہ ہے اور اس کے تمام اراکین کا انتحاب بھی صدر بش نے خود کیا تھا۔ اس کمیشن نے اپنی تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ آیا کہ شمالی کوریا اور ایران پر حملے کی صورت میں انٹیلی جنس ذرائع کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ تاہم یہ تحقیق شائع نہیں کی جائے گی۔ تاہم ایک ماہر نے جس سے کمیشن نے رائے طلب کی تھی نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ایران میں انٹیلی جنس کی حالت بہتر ہے لیکن شمالی کوریا میں امریکی انٹیلی جنس بری طرح ناکام ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||