’امریکہ خطرے میں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے القاعدہ کی طرف سے بڑے امریکی شہروں پر دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کے بارے میں خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ’ امریکہ خطرے میں ہے۔‘ صدر بش نے کہا ہے کہ امریکہ کو محفوظ بنانے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا اور اس ضمن میں انہوں نے امریکی کانگریس سے نئے ’نیشل ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس‘ کا ایک نیا عہدہ قائم کی درخواست کی ہے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے نظام میں اصلاحات کرنے کی سفارش کی تھی۔ واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں القاعدہ کی طرف سے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے بارے میں تازہ معلومات کے سامنے آنے کے بعد ان شہروں میں خطرے کی حد کو بڑھا کر ’ زرد‘ کر دیا گیا ہے۔ واشنگٹن پولیس چیف چارلس رمزے نے بی بی سی کو بتایا کہ موجود حفاظتی انتظامات اکتوبر میں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک جاری رہیں گے۔ امریکی خبر رساں ادارے نے خفیہ اداروں کے ذرائع سے بتایا ہے کہ جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق القاعدہ کے مبینہ دہشت گرد نے اس حد تک معلومات حاصل کر لیں تھیں کہ عالمی مالیاتی اداروں کے فولادی ڈھانچے کتنے مضبوط ہیں، کس حد تک حدت برداشت کر سکتے ہیں اور ان عمارتوں کے اردگرد دن کے کس وقت سب سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ غیر معمولی خفیہ معلومات سامنے آئی ہیں اور انہوں نے اتنی تفصیلی معلومات اس سے پہلے نہیں دیکھیں۔ دریں اثناء حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ تازہ معلومات القاعدہ کے گرفتار ہونے والے دو ارکان سے برآمد ہونے والے کمپیوٹر سے ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||