خفیہ نظام کی تشکیل نو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی حکمران رپبلکن پارٹی کے سرکردہ سینیٹر پیٹ رابرٹس نے امریکی خفیہ نظام کو از سرے نو منظم کرنےاور ایک نئے خفیہ ادارے نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر قائم کرنے کے قانون کا مسودہ تیار کیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے عملی طور پر ٹوٹ جائے گی اور اس کی جگہ نئے ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ سینیٹر پیٹ رابرٹس نے کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے تحفظ کے ایک نئے قانون کی حمایت کر رہے ہیں جو کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے تحقیقاتی کمیش کی سفارشات کو آگے بڑھانے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے کہا کہ وہ اس نئے قانون کی حمایت میں ہیں تاہم انہیں ابھی تک اس قانون سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ پیٹ رابرٹس نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ یہ نیا قانون اکتوبر کے صدارتی انتخابات کی مہم تیز ہونے سے پہلے ہی منظور کروا لیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کی وجہ سے وائٹ ہاؤس نے ستمبر گیارہ کے حملوں کے تحقیقات کمیشن کی سفارشات اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین کے مطالبات منظور کرنے کے لیے کسی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت وجود میں آنےوالے قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کا تقرر کیا جائے گا جس کو سی آئی اے کے مختلف شعبوں پر وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ اس قانون کے مسودہ میں سی آئی اے کے تین شعبوں، سائنس، ٹیکنالوجی، اور انٹیلی جنس کو تین مختلف ایجنسیوں میں بانٹ کر ان کا انتظامی اختیار نیشل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کو دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس قانون کے منظور ہو جانے کی صورت میں امریکی وزارت دفاع پینٹاگن کو ان تین بڑے اداروں کا کنٹرول چھوڑنا ہو گا۔ سینیٹر پیٹ نے جو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ ہیں کہا کہ انہیں اس قانون پر کمیٹی کے نو رپبلکن ارکان میں سے آٹھ کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈیموکر یٹک پارٹی کے ارکان اور بش انتظامیہ کو ابھی تک اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسودہ کوئی پتھر کی لکیر نہیں جس میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسودے میں مثبت تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||