’حملے کے جواز درست نہ تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمسفلڈ نے صدام حسن اور القاعدہ کے رابطوں کے بارے میں ثبوت نہ ملنے کا انکشاف کیا ہے اور برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا عراق کے وسیع تباہی کے مبینہ ہتھیاروں کے جواز سے دستبردار ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیرخارجہ نے برطانوی پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ انٹیلیجنس کے سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ اس دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکتے کہ عراق کے پاس پینتالیس منٹ میں کیمیائی یا جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت تھی۔ ستمبر دو ہزار دو میں عراق پر حملے کی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جاری کیے جانے والے حقائق نامے میں اس دعوے کو انتہائی اہم دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیک سٹرا نے برطانوی حزب اختلاف اور کچھ سرکاری ارکان کے اس مطالبے کو نہیں مانا کہ انہیں عراق کے خلاف جنگ شروع کرنے پت معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کے کچھ انٹیلیجنس اطلاعات غلط ثابت ہوئی ہیں، دنیا کو صدام حسین کی صورت میں موجود خطرے سے نجات دلانا ایک منصفانہ عمل تھا۔
اسی دوران امریکی وزیرِ دفاع نے بھی دو دن میں دو بار اپنا موقف تبدیل ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ صدام حسین اور القاعدہ کے درمیان روابط تھے۔ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے بش انتظامیہ نے یہ تاثر دینے کی بھر پور کوشش کی تھی کہ صدام حسین اور القاعدہ میں روابط ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ عراق میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ ہیں۔
نائب صدر ڈک چینی نے زوردار طریقے سے کہا تھا کہ گیارہ ستمبر سے پہلے عراقی ایجنٹ القاعدہ والوں سے پراگ میں ملے تھے۔ لیکن دو روم قبل نیویارک میں ایک تِھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ کا کہنا تھا ’انٹیلیجنس کی برادری میں اس بارے میں اختلافات ہیں کہ رابطہ کس قسم کا تھا لیکن جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے مجھے اس رابطے کے بارے میں کوئی ٹھوس شہادت دیکھائی نہیں دی‘۔ دوسال پہلےڈونلڈ رمسفیلڈ عراق پر حملے کا جواز ان الفاظ میں پیش کیا تھا: ’عراق میں اور خود بغداد کے اندر القاعدہ کے ارکان کی موجودگی کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس شہادتیں ہیں۔ اور باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ رابطے برسوں سے جاری ہیں اور امکان یہ ہے کہ کیمیاوی اور جراثیمی ایجنٹ کی ٹریننگ بھی دی جاتی رہی ہے‘۔ یہی نہیں بلکہ ڈونلڈ رمسفیلڈ نے حملے کے دوسرے جواز کے سلسلے میں بھی اپنا موقف بدل دیا ہے۔ پرسوں پیر کے جلسے میں انہوں نے عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں کہا تھا: ’اتفاق یہ ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ملے۔ انٹیلی جنس غلط کیوں ثابت ہوئی میں اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں‘۔ لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے یہ ٹکڑا بھی لگا دیا کہ صدام حسین سے نجات حاصل کرکے دنیا کا بھلا ہوا ہے۔ تو کیا وزیر دفاع نے نئی راگنی الاپنی شروع کردی ہے۔ وہ تھنک ٹینک یعنی کونسل آف فارن ریلیشن، جس کے اجلاس میں پیر کو انہوں نے سوالوں کے جواب دیے تھے اس کے ایک سینیئر فیلو چارلس کُپچن کا کہنا ہے کہ رمسفیلڈ نے واقعی اپنا موقف بدل لیا ہے۔ تاہم منگل کی شام ڈونلڈ رمسفیلڈ کی طرف سے یہ بیان بھی آیا ہے کہ پیر کو جو بات انہوں نے کہا تھی اس کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ انہوں اس بات کی وضاحت نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے امریکہ میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بھی اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||