’سنی بھی پولیس میں بھرتی ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سنی رہنماؤں نے سنی فرقہ سے تعلق رکھنے والی آبادی سے کہا ہے کہ وہ ملک کی سکیورٹی فورسز میں شامل ہوں۔ عراق میں امریکہ کے خلاف مزاحمت اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں سنی لوگ پیش پیش ہیں۔ عراق کی فوج اور پولیس میں زیادہ تر نفری شیعہ اور کرد لوگوں کی ہے۔ تاہم چونسٹھ سنی رہنماؤں اور علماء کے گروپ نے سنی آبادی پر واضع کیا ہے کہ وہ ہم وطنوں کے خلاف خارجی افواج کی بالکل مدد نہیں کریں۔ ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز کے احمد عبدالغفور ال-سمارائے نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے جنہوں نے ملک میں تباہی اور انتشار پھیلایاہے ضروری ہے کہ سنی بھی ان فورسز میں شامل ہوں۔ عراقی حکومت کے ترجمان نے اس بیان کو خوش آئند قراد دیا ہے۔ سنی آبادی نے عراق کے حالیہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ جمعہ کے روز عراقی قانون سازوں نے نیشنل اسمبلی کا سپیکر منتخب کرنے کے لیے مزاکرات کیے۔ تاہم ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا کہ کون سا سنی رہنما اس عہدے کے لیے چنا جائے گا۔ دریں اثنا بغداد کے شمال مشرق میں ایک کار دھماکے میں چار پولیس اہلکار اور ایک گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگئے ہیں۔ دھماکے کے وقت پولیس کار کا معائنہ کر رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||