امریکی ایجنسیاں تنقید کا نشانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پندرہ خفیہ ایجنسیوں کو دیگر ممالک کے جوہری پروگراموں کے بارے میں ’پریشان کن حد تک کم‘ معلومات حاصل ہیں۔ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ سخت رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں مہلک ہتھیاروں کے بارے میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی بیشتر معلومات غلط تھیں اور انہیں غلط معلومات کو جواز بنا کر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔ صدر جارج بش کی جانب سے ایک برس قبل تشکیل دیئے گئے اس کمیشن نے امریکی خفیہ ایجنسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ عراق جنگ سے قبل وہاں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں امریکی معلومات بالکل غلط تھیں۔ کمیشن کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ ایجنسیاں ہتھیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں نااہل ثابت ہوئی تھیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس ضمن میں ایجنسیوں سے بڑی بڑی غلطیاں سر زد ہوئیں۔ ایجنسیاں یہ بھی پوری طرح واضح نہ کر پائیں کہ آیا ان کی معلومات شواہد پر مبنی تھیں یا محض مفروضوں پر۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان غلطیوں کے سبب خفیہ ایجنسیوں کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہونے میں کئی برس لگ جائیں گے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس قدر سنگین غلطیوں کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔ کمیشن نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو دیگر ممالک کے جوہری منصوبوں کے بارے میں بھی بہت ہی کم معلومات حاصل ہیں لیکن اس کے باوجود بھی یہ امر ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے لیے ممکنہ خطرے کا سبب ہو سکتا ہے۔ کمیشن نے زور دیا ہے کہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے ڈرامائی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں ستر تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ کمیشن کے ارکان نے کہا ہے کہ صدر بش کو خفیہ ادارے کے نئے ڈائریکٹر جان نیگروپانٹے کے اختیارات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||