BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 March, 2005, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام ٹرائبیونل کا ایک جج ہلاک
عراق
حملہ سے ایک روز قبل عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بھائی اور دیگر چار افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے
عراق کے دارالحکومت بغداد میں مسلح افراد نے ایک جج اور ان کے ایک رشہ دار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

مقتول جج کا نام براوِز محمود مروان بتایا گیا ہے مسٹر محمود اور ان کے رشتہ دار دونوں ہی اُس خصوصی ٹرائبیونل کے رکن تھے جو معزول صدر صدام حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں پر مقدمہ چلانے کی تیاری کر رہا ہے۔

دونوں افراد کو ان کے گھر کے باہر گولی ماری گئی۔

عراق میں پہلے بھی کئی جج مزاحمت کاروں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم پہلی بار خصوصی ٹرائبیول کے کسی رکن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حفاظت کے پیشِ نظر اس ٹرائبیول اور استغاثہ میں شامل ارکان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

ادھر بغداد ہی میں ایک فوجی اڈے کے قریب خود کش کار بم کے حملے میں کم سے کم چھ فوجی ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ اس دھماکے میں ہلاک ہو نے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دو دن پہلے ہِلّہ شہر میں ایک کار بم دھماکے میں ایک سو پچیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزاحمت کار ہر اس شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو امریکی حمایت والے حکام سے کسی نے کسی طرح وابستہ ہو یا پھر وہ لوگ جو سرکاری نوکری حاصل کرنا چاہتے ہوں۔

خصوصی ٹرائبیونل کے جج کی ہلاکت سے ایک روز قبل ہی ٹرائبیونل نے اپنی پہلی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر کے صدام حسین کے سوتیلے بھائی پر جنوبی عراق میں اجتماعی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلانے کی تجویز دی تھی۔

توقع ہے کہ عراق کے کئی سابق اہم افسران پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد