صدام کا بھائی شام میں گرفتار ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے سوتیلے بھائی کو شام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سباوی ابراہیم الحسن التکریتی امریکی فوج کے پچپن سب سے زیادہ مطلوب سابق عراقی حکام میں سے چھتیسویں نمبر پر تھے۔ان پچپن افراد میں سے اب نو افراد امریکی فوج کے ہتھے نہیں چڑھ سکے ہیں جبکہ باقی یا تو مر چکے ہیں یا امریکی قید میں ہیں۔ ابراہیم الحسن کی گرفتاری پر ایک ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا اور وہ انتیس مطلوب ترین شدت پسندوں میں بھی شامل تھے۔ ابرہیم کی گرفتاری کا اعلان اتوار کے روز کیا گیا تھا لیکن ان کی گرفتاری میں شام کے کردار کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اب حکومتی ذرائع کے حوالے کہا جا رہا ہے کہ شام کے حکام نے زبردست دباؤ کے زیر اثر ابراہیم کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ عراق کی عبوری حکومت کے حکام نے چند ماہ قبل ابراہیم تکریتی کو بعث پارٹی کے ان دو رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا تھا جو کہ شام میں رہ کر امریکی فوج کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ابراہیم تکریتی کے دو بھائی وطبان اور برزان پہلے ہی امریکی قید میں ہیں اور ان پر آئندہ چند ماہ میں مقدمہ چلائے جانے کی امید ہے۔ آج کل استغاثہ ان کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے میں مصروف ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||