عراق: کون کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور اس کے اتحادی عراق کے مذہبی سیاسی اور نسلی گروہوں سے مذاکرات کیے بنا کسی بھی قسم کا نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ صدام حسین کی معزولی کے بعد سے عراق کی شیعہ آبادی نے تیزی سے طاقت پکڑی ہے شیعہ عراق کی کل آبادی کا ساٹھ فیصدہیں۔ قیادت کے لیے زیادہ تر عراقی شیعوں کی نگاہیں عراق کے بزرگ اور مشہور عالم آیت اللہ علی سیستانی پر ہیں۔اس کے علاوہ دو شیعہ مذہبی جماعتیں سپریم کونسل برائے عراقی انقلاب اور دعویٰ پارٹی بھی اقتدار کی دوڑ میں شریک ہیں۔ اگرچہ ان دونوں شیعہ جماعتوں نے امریکہ کی نامزد کردہ گورننگ کونسل میں اتحادیوں کے ساتھ کام کیا ہے لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ عراق کی کچھ شیعہ آبادی جن میں زیادہ تر غرباء اور نچلے طبقے کے افراد شامل ہیں ایک بنیاد پرست نوجوان عالم مقتدہ الصدر کی حمایت کر رہے ہیں۔ مقتدہ الصدر نے نجف میں ہونے والی عراقی مزاحمت میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ یہ مزاحمت اپریل 2004 میں شروع ہوئی تھی اور اس کا اختتام آخرِکار آیت اللہ علی سیستانی کی مداخلت پر ہوا تھا۔ اگست میں ایک بار پھر نجف میں ہنگاموں کا آغاز ہوگیا تھا اور مصالحت کے لیے ایک بار پھر آیت اللہ علی سیستانی کی خدمات حاصل کرنا پڑی تھیں۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگست میں ہونے والی اس جنگ بندی سے مقتدہ الصدر کی سیاسی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کی جنگی صلاحیت کو بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔
اسی اثناء میں وہ سنی اقلیت جو کہ تاریخی طور پر عراق میں حکمران رہی ہے اپنا اثرورسوخ کھوتا دکھائی دے رہی ہے۔ صدام حسین کی بعث پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے بہت سے عام افراد کو ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں سرکاری ملازمین، اساتذہ اور عراق میں اب تک ہونے والی تشدد کی زیادہ تر وارداتوں میں سنی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ان وارداتوں کے ردعمل کے طور پر اتحادی افواج کی کارروائیوں نے عراق کی سنی آبادی کو اور مشتعل کر دیا ہے۔ فلوجہ جیسے علاقوں میں صدام حسین کی بعث پارٹی کو ازسرِ نو زندہ کرنے کی کوششوں بار آور ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ صدام کے خلاف جدوجہد کرنے والے افراد اس عمل سے فکرمند نظر آتے ہیں۔ عراق کی عبوری حکومت کے بااثر اراکین معتدل سنی ہیں۔ ان اراکین میں عبوری صدر غازی الیاور اور سکیولر رہنما عدنان پچاچی شامل ہیں۔
عراقی سیاست کے موجودہ رہنماؤں کو جلاوطنی کے سبب مقامی سیاست میں اپنے قدم جمانے میں سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔ عراق کے اہم رہنما صدام حسین کے دور میں لندن اور واشنگٹن میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ عراقی نیشنل کانگرس کے احمد شلابی اور عراقی نیشنل اکارڈ کے ایاد علاوی کو عبوری حکومت سے پہلے عراق میں جاننے والے افراد بہت کم تھے اور انہیں عراقی سیاست میں اپنے قدم جمانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ نہ صرف وہ نووارد تھے بلکہ ان پر امریکہ نواز ہونے کا الزام بھی تھا۔
احمد شلابی جو کہ ایک زمانے میں امریکہ کے پسندیدہ ترین امیدوار تھے بعد ازاں ایران کے بنیاد پرستوں سے تعلقات کی بنا اس مقام پر نہ رہ سکے۔ مارچ میں امریکہ نے شلابی کی جماعت کی امداد روک دی اور ان کے گھر پر چھاپہ مارا جبکہ اگست میں ایک عراقی جج نے احمد شلابی کے خلاف وارنٹ جاری کیا۔ ان کے برعکس ایاد علاوی جو کہ امریکہ اور اتحادیوں پر تنقید کرتے آئے تھے لیکن ساتھ ہی سی آئی اے کے پسندیدہ بھی تھے عراق کے عبوری وزیرِاعظم بنا دیے گئے۔ عراقی سیاست میں کردوں کا بھی ایک کردار ہے۔ کرد عراقی آبادی کا بیس فیصد ہیں۔ وہ1990 میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے دی گئی خودمختاری کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر کردوں کی اصل تمنا مکمل آزادی ہے لیکن ان کے رہنما ایک متحد عراق کے اند اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||