صدام کے ساتھیوں پر مقدمے کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیرِاعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے ساتھیوں پر مقدمے کا آغاز اگلے ہفتے ہو رہا ہے۔ عراقی نیشنل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایاد علاوی نے کہا کہ سابقہ حکومت کے اہم افراد پر یکے بعد دیگرے مقدمہ چلایا جائے گا۔ایاد علاوی نے یہ بھی بتایا کہ عراقی پولیس نے ابومصعب الزرقاوی کے ایک سینئیر ساتھی کو ہلاک کر دیا ہےجبکہ دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد کے نام نہیں بتائے گئے ہیں جن پر مقدمہ چلے گا اور نہ ہی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ خود صدام حسین کب عدالت کا سامنا کریں گے۔ یہ مقدمہ اگلے ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے البتہ عراقی وزیرِاعظم نے کوئی مقررہ تاریخ نہیں دی ہے۔ ایاد علاوی نے کہا کہ ’ اس بات کی یقین دہانی کی جائے گی کہ عراق میں انصاف ہو‘۔ صدام حسین کو امریکی فوجیوں نے گزشتہ برس تیرہ دسمبر کو ان کے آبائی قصبے تکریت کے نواح سے گرفتار کیا تھا۔ صدام حسین کے رفقاء کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل عراق پر امریکی قبضے کے بعد تشکیل پانے والی عدالتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ صدام اور ان کی حکومت کے گیارہ اعلیٰ حکام کو ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے۔ ان افراد میں عراق کے سابق نائب وزیرِاعظم طارق عزیز اور ’ کیمکل علی‘ کے نام سے پہچانے جانے والے علی الحسن الماجد بھی شامل ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان نے اتوار کو کہا تھا کہ ان افراد میں سے کچھ نے کھانا کھانے سے انکار کیا تھا۔ حکام نے اس بات کی تردید کی تھی کہ صدام حسین بھوک ہڑتال پر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||