صدام کے خلاف ثبوت’ کھو‘ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ معزول عراقی صدر صدام حسین اور دیگر عراقی افسروں کے مقدمات کی اہم شہادت یا تو کھو گئی ہے یا اسے مسخ کر دیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق عراق میں امریکی فوج نے گزشتہ برس عراق پر حملے کے بعد ان مقامات کو محفوظ نہیں کیا تھا جہاں سے صدام حسین اور دوسرے عراقیوں کے خلاف ثبوت مل سکتے تھے۔ امریکہ میں کام کرنے والی اس تنظیم نےاکتالیس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج سرکاری عمارتوں سےلوگوں کو ہزاروں کی تعداد میں کاغذات اور دستاویزات لوٹنے سے روکنے میں ناکام ہو گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج ان ہزاروں افراد کے رشتہ داروں کو اجتماعی قبریں کھودنے سے روکنے میں بھی ناکام رہیں جو صدام دور میں غائب ہوگئے تھے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹھوس دستاویزی اور سائنسی شواہد کی دستیابی عراق میں چلنے والے مقدمات کی کامیابی کے لیے کلید ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے عینی شاہدوں کے بیانات کے باوزن ہونے کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ’لیکن امریکہ کی سالاری میں کام کرنے والی فوج کی غفلت یا بے عملی کی وجہ سے ایسے کچھ ثبوت یا ضائع ہوگئے ہیں یا خراب ہوگئے ہیں۔‘ تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ اپریل دو ہزار تین میں عراق میں ہونے والی لوٹ کھسوٹ کو روکنے میں اتحادی فوج کی ناکامی اور سرکاری عمارتوں کی توڑ پھوڑ سے سرکاری ریکارڈ کو بھی نقصان پہنچا اور انہیں حاصل کرنا اب تقریباً ناممکن ہے۔ اتحادی فوج بچھے کھچے ریکارڈ کو محفوظ کرنے اور اس کی درجہ بندی کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ بعض علاقوں میں عام لوگوں نے اپنے اقرباء کی شناخت کے لیے اجتماعی قبروں کو کھودا جبکہ اتحادی فوجی یہ منظر دیکھتے رہے۔ ’جس انداز سے یہ قبریں کھودی گئیں اس سے دوسروں کے لیے بھی اپنے پیاروں کی شناخت بھی مشکل ہوگئی۔ اور انسانوں کی باقیات نہ محفوظ رہ سکیں نہ الگ کی جا سکیں۔‘ تنظیم کے مطابق مستقبل میں مقدمے چلانے کے لیے انتہائی ضروری ثبوت اکٹھے نہ کیے گئے اور انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||