| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی عدالت یا عالمی ٹرئبیونل
امریکہ کی نامزد کردہ عراقی گورننگ کونسل نے کہا ہے کہ صدام حسین پر جنگی جرائم، نسلی کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب اور عراقی عوام پر مظالم کرنے کے الزامات پر مقدمہ عراق کی عدالت میں چلایا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے ہی عراق کی گورننگ کونسل نے اعلان کیا تھا کہ بعث پارٹی کے ارکان پر مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی ٹریبیونل تشکیل دیا جائے گا۔ عراقی کونسل کے ایک رکن احمد چلابی نے کہا تھا کہ اگر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا تو انہیں اسی خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس خصوصی عدالت کی تشکیل کے بارے میں گورننگ کونسل کے ارکان اور قابض اتحادی فوج کے حکام کے درمیان کئی مہینوں سے بحث چل رہی ہے۔ عراقیوں کا اصرار ہے کہ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں پر بین الاقوامی ٹریبیونل کی بجائے عراق میں ہی مقدمہ چلایا جائے۔ قابض اتحادی حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت عراقیوں پر مشتمل ہو گئی اور اس میں ججوں کا تقرر گورننگ کونسل کرئے گی اور یہ ایک سول عدالت ہو گی۔ ملزموں کو اپنے دفاع کے لیے وکلاء بھی مہیا کئے جائیں گے۔ کونسل کے ایک اور رکن عبدالعزیز الحکیم نے کہا کہ صدام حسین پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور سترہ مئی انیس سو اڑسٹھ ( جب صدام حسین نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا) اور یکم مئی دو ہزار تین (جب امریکی فوج نے بغداد پر قبضہ کیا) کے طویل عرصے کے دوران کئے جانے والے مظالم کے الزام پر مقدمہ چلایا جائے۔ یہ عدالت انیس سو اسی میں کردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی جس میں زہریلی گیس کا استعمال بھی کیا گیا تھا اور پہلی خیلج جنگ کے بعد انیس سو اکانوے میں شیعہ اور کرودں کی شورش کو دبانے کے لیے کئے جانے والے اقدامات کے علاوہ ساحلی علاقوں میں رہنے والے عربوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ایران اور کویت پر حملوں کے دوران کئے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کا بھی جائزہ لے گی۔ عراق کی گورننگ کونسل میں نمائندگی رکھنے والی جماعت عراقی نیشنل کانگرس کے ترجمان نے کہا کہ یہ گورننگ کونسل کی ذمہ داری ہے کہ بعث پارٹی کے ان مجرموں پر مقدمہ چلائے اور انھیں کیفر کردار تک پہنچائے۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی ٹریبیونل ہی صدام حسین پر مقدمہ چلانے کے لیے بہتر رہے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس تجویز کی تائید کی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے سربراہ کینتھ روتھ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ٹریبیونل اقوام متحدہ مقرر کر ئے گا تو اس کو عالمی سطح پر قبول کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا جبکہ عراق میں خصوصی عدالت امریکہ کی نامزد کردہ عراقی گورننگ کونسل کے ممبران نامزد کریں گے جس کو عراق اور عالمی سطح پر بھی شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا صدام حسین پر مقدمہ چلانے کے لیے یا تو مکمل طور پر بین الاقوامی ٹریبیونل قائم کیا جائے جیسا کہ سابق یوگوسلاویہ اور روانڈا میں کیا گیا تھا یا پھر اس ٹریبیونل میں کچھ عراقیوں کوبھی شامل کر لیا جائے جیسا کہ سیرا لون میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ٹریبیونل میں عالمی سطح پر منتخب کئے جانے والے جج اور ماہرین شامل ہوں گے اور اس کی پیشہ وارانہ استعاعت بھی بہت بہتر ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||