| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقدمہ کھلی عدالت میں: بش
امریکی صدر جارج بش نے صدام حسین پر عراق میں ہی مقدمہ چلانے کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں امریکہ عراقی عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدام حسین پر مقدمہ چلانے کے لیے ایساطریقے کار اپنایا جائے گا جو بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ہو۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ صدام حسین پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اس سلسلے میں ایران کے خلاف صدام حسین کے جرائم پر مبنی ایک دستاویز بھی مرتب کی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر بش نے عراقی عوام کے ساتھ مل کر صدام حسین پر مقدمہ چلانے کی بات کر کے بظاہر ایران اور کئی عالمی تنظیموں کی طرف سے کئے جانے والے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ صدر جارج بش نے کہا کہ ان کے خیال میں عراقی عوام کی آراء سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے صدام حسین کی گرفتاری کو ایک بہت عظیم لمحہ قرار دیا اور کہا کہ آزاد عراق کے دشمنوں کے عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی عراق میں امریکہ کا کئی مشکلات درپیش ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||