 |  ریپبلکن ارکان نے عراق میں کسی بھی طرح کے فراڈ کی تحقیقات سے انکار کردیا ہے |
عراق میں اتحادی افواج کی عبوری انتظامیہ (سی پی اے) پر، جو امریکی قیادت میں کام کررہی ہے، یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ اربوں ڈالر ضائع کررہی ہے۔ سینیٹ کے پینل سے خطاب کرتے ہوئے سابق سی پی اے اہلکار فرینکلن ولس نے کہا ہے کہ عراق میں ٹھیکے دار کمپنیوں کےساتھ لین دین کے معاملات ایسے طے کیے جارہے ہیں جیسے جنگلی مغربی دنیا میں ہوا کرتا تھا۔ جنگ کے تقریباً دو سال کے بعد امریکی کانگریس کی طرف سے عراق کی تعمیر نو کے لیے مختص کیے گئے 18 ارب ڈالر کا اسی فیصد ابھی خرچ نہیں کیا گیا۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سی پی اے بہت مشکل حالات میں عراق میں کام کررہی ہے۔ ڈیمو کریٹک سینیٹرز نے تعمیر نو کے فنڈز کے منتظمین کو سماعت کے لیے بلایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریپبلکن ارکان نے جو کانگریس چلانے کے ذمہ دار ہیں عراق میں کسی بھی طرح کے فراڈ کی تحقیقات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ فرینکلن ولس نے امریکی سینیٹ کی ڈیمو کریٹک پالیسی کمیٹی کو بتایا ہے کہ عراق میں اتحادی افواج نے بڑے بیمانے پر پیسے نہ صرف ضائع کیے ہیں بلکہ ان کا غلط استعمال بھی کیا ہے۔ انہوں نے اپنی اور دیگر امریکی حکام کی تصاویر بھی دکھائی ہیں جن میں وہ پلاسٹک کے تھیلوں میں سو ڈالر کے نوٹوں کے بنڈل لیے کھڑے ہیں۔ ان تھیلوں میں دو ملین ڈالر مالیت کی رقم موجود ہے۔ یہ پیسے ایک سکیورٹی کانٹریکٹر کو ادا کیے جاتے تھے۔ فرینکلن ولس کا کہنا ہے کہ عراق میں نا تجربہ کار فوجی اہلکاروں، فیصلہ کرنے کا خوف، رابطوں کی کمی، غیر مناسب سکیورٹی، بینکوں کی غیر موجودگی اور پیسوں کی فراوانی سے ایسے حالات پیدا ہوگئے جیسا کہ غیر تہذیب یافتہ مغربی دنیا میں ہوا کرتے تھے۔ یہ الزامات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب ایک ہی ہفتہ قبل سی پی اے کے آڈٹ سے سے معلوم ہوا ہے کہ اتحادی فوج نے عراق کے اپنے 20 ارب ڈالر کے سرمائے کے ساتھ بد احتیاطی کی ہے جس کے باعث وہاں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ |