عراق: نو ارب ڈالر کِدھر گئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق پر قبضہ کے بعد قائم ہونے والی امریکی انتظامیہ نے مالی لاپرواہی برتی جس سے اربوں ڈالر ضائع ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ عراق کی تعمیر نو کے بارے میں مقرر کیے جانے والے خصوصی انسپکٹر جنرل نے تیار کی ہے۔ انہیں جنگ کے خاتمہ پر عراق کے لیے دیے جانے والے پیسوں کے آڈٹ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے قائم ہونے والی عبوری انتظامیہ جس نے سن دو ہزار چار کے وسط تک کام کیا عراق کے بجٹ کی صحیح طور پر نگرانی نہیں کر سکی۔ سن دو ہزار تین میں عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے عراق میں ایک قابض حکومت تشکیل دی۔ اسے کوالیشن پرووشنل اتھارٹی یا سی پی اے(Coalition Provisional Authority) کا نام دیا گیا۔ سی پی اے کے ذمہ ملک کا نظام چلانا اور سکولوں، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر نو کرنا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ سی پی اے کے ذمہ انتہائی مشکل کام تھا لیکن ساتھ ہی اس نے اس اتھارٹی پر پیسوں کی تقسیم کے بارے میں سخت تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹھ عشاریہ آٹھ ارب ڈالر عراق کی مختلف وزارتوں کو تنخواہوں اور تعمیراتی منصوبوں کی مد میں دیے گئے۔ رپورٹ میں بد انتظامی کی مثال کے طور پر کہا گیا ہے کہ سی پی اے نے شہری دفاع کے محکمے کے ملازمین کو تنخواہوں کے لیے سترہ ملین ڈالر دیے لیکن ان کا کوئی حساب نہیں۔ الزام لگایا گیا ہے کہ ایک وزارت کو آٹھ ہزار گارڈوں کی تنخواہ کے پیسے دیے گئے لیکن اس وزارت میں صرف چھ سو گارڈوں کی موجودگی کی تصدیق ہو سکی ہے۔ سی پی اے کے اس وقت کے سربراہ پال بریمر نے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||