BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2003, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا‘
پال بریمر
پال بریمر ہمیشہ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں

عراقی انتظامیہ کے امریکی سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ ان پر دسمبر کے پہلے ہفتے میں ناکام قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

جمعہ کے روز بصرہ میں اخبارنویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے متعلق سامنے آنے والی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’ہاں یہ ٹھیک ہے، لیکن شُکر ہے کہ میں ابھی تک زندہ ہوں اور آپ کے سامنے موجود ہوں۔‘

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اُسی دن پیش آیا تھا جس دن امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے عراق کا دورہ کیا تھا اور انہیں عراق میں سیکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں ایک اطمینان بخش بریفنگ دی گئی تھی۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ پال بریمر کا کاروان پہلے ایک بم سے ٹکرایا تھااور بعد میں اس پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

تاہم بغداد ائیرپورٹ سے واپس جاتا ہوا یہ کاروان تیزی سے نکل گیا تھا اور اس میں شامل کوئی شخص بھی زخمی نہیں ہوا تھا۔

عراق میں ہلاک ہونے والے سب سے بڑے غیر ملکی سفارت کار اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی سرجیو دی میلو تھے جو انیس اگست کو ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے کا شکار ہوئے تھے۔

بغداد میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر پر ہونے والے اس خوفناک خودکش حملے میں کل تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد