| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بہت سے عراقی بچ سکتے تھے‘
انسا نی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق عراق پر جنگ میں سینکڑوں عراقی شہریوں کی موت سے بچا جا سکتا تھا۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ حملے میں عراقی شہریوں کی ہلاکتیں کم ہو سکتی تھیں لیکن امریکہ اور برطانیہ کی غلط فوجی حکمت عملی کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکہ کے شہر نیو یارک میں مقیم تنظیم کی نئی رپورٹ کا عنوان ’آف ٹارگٹ‘ یعنی ’نشانے سے دور‘ ہے۔ عراق پر جنگ میں ہلاک ہونے والے عراقی شہریوں کی صحیح تعداد اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں اس لئے ہوئیں کہ اتحادی فوج نے کلسٹر بم استعمال کئے اور اس کے علاوہ صدام حکومت کی دیگر شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ رپورٹ نے فوجی حکمت عملی کے ان دونوں طریقوں پر سخت تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ کلسٹر بم کے استعمال سے ایک ہزار سے زیادہ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہو نگے کیونکہ ان بموں کو گنجان آباد علاقوں پر پھینکا گیا۔ مطلوب عراقی رہنماؤں پر چن کر حملہ کرنے کی کارروائی بھی جانی نقصان کے لحاظ سے مہنگی ثابت ہوئی۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایسے پچاس حملوں میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے لیکن جن کو نشانہ بنایا گیا تھا وہ سب بچ گئے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانوی اور امریکی فوج کی زیادہ تر یہ کوشش رہی کہ وہ ایسے عراقیوں کو نہ ماریں جو جنگ میں شریک نہ ہوں۔ اس کے علاوہ عراقی فوجیوں کی اپنی حکمت عملی سے بھی مشکل پڑی کیونکہ بعض اوقات فوجی اور جنگجو افراد شہری بھیس میں ہوتے تھے اور وہ اپنے آپ کو جنگجو ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے کرنے سے انہوں نے شہریوں کو خطرے میں ڈالا۔ رپورٹ میں سب سے زیادہ تنقید ’پریسِشن‘ ہتھیاروں یعنی مخصوص نشانے کو مارنے کی سلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں پر کیا گیا ہے۔ ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر کینیتھ راتھ کا کہنا ہے کہ ’یہ ہتھیار صرف اس صورت میں استعمال کیے جا سکتے ہیں جب آپ کو سو فیصد یہ پتہ ہو کہ آپ کا ہدف اس جگہ اس وقت موجود ہو۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||