BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا عراقی مزاحمت ختم؟

صدام حسین کے حق میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں
صدام حسین کے حق میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں

صدام حسین کی انتہائی مایوس کن حالات میں گرفتاری کے بعد عراق پر تیس سال سے زائد عرصے تک حکومت کرنے والی جماعت بعث پارٹی کا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ہے لیکن کیا اس گرفتاری کے ساتھ امریکی قبضہ کے خلاف مزاحمت بھی دم توڑ جائے گی؟

تکریت میں امریکی فوجی کارروائی کے جہاں صدام حسین پر مقدمہ اور ان کے مستقبل کے بارے میں بحث عالمی ذرائع ابلاغ میں شدت سے جاری ہے وہیں عراق میں امریکہ کے خلاف مزاحمت کے بارے میں بھی تبصرے کئے جارہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گو صدام حسین گرفتار ہو گئے ہیں اور ان کے دونوں بیٹے مارے جاچکے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مزاحمت مکمل طور پرختم ہو جائے گی۔

عراق میں امریکی فوج کے خلاف کی جانے والی مزاحمت کے پیچھے بہت سے عناصر کار فرما ہیں۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی ، سیاسی اور قومی نوعیت کی وجوہات کے علاوہ اس مزاحمت کی ایک وجہ وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جنھیں صدام حسین نے امریکی حملے سے پہلے جیلوں سے رہا کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ بعث پارٹی کے بچے کھچے ارکان بھی امریکی فوج کے خلاف کئے جانے والے حملوں میں یقیناً شامل ہوں گے اور صدام حسین کی گرفتاری کے بعد وہ زیادہ تلخ ہو جائیں گے۔

ان حملوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔

صدام کی گرفتاری کے بعد اب امریکی فوج نئے جذبے سے بعث پارٹی کے بچے کھچے ارکان اور ان غیر ملکی جنگجوں کو ختم کرنے کی کارروائی کرئے گی۔

ان کا خیال ہے کہ صدام حسین کی گرفتاری سے ایک نفسیاتی تبدیلی آئے گی جس سے مزاحمت کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

عام عراقی صدام حسین کی گرفتاری سے مطمئن ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں۔

امریکی صدام حسین سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ صدام حسین کا مزاحمت کو منظم کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا ان کا زیادہ تر وقت چھپنے میں صرف ہوتا تھا۔

تاہم امریکی حملے سے پہلے انہوں نے مزاحمت کرنے کا اگر کوئی منصوبہ بنایا تھا تو اس پر صدام حسین سے کچھ نہ کچھ معلومات مل سکتی ہیں۔ امریکی ان سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں بھی سوالات کریں گے۔

اس سارے پس منظر میں ایک عنصر ایسا ہے جو ماہرین کے خیال میں مستقبل میں شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اور وہ ہے جنوبی عراق میں بسنے والے شیعہ جو عراق کی آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد ہیں۔

اب تک یہ شیعہ مزاحمت سے لا تعلق رہے ہیں اور وہ امریکہ کی طرف سے عراق میں جہوریت کے قیام کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر عراق کی مستقبل کی حکومت میں شیعہ آبادی کو ان کا جائز حق نہ ملا تو پھر بعث پارٹی کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت کو لوگ بھول جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد