’والد شیر تھے، شیر ہی رہیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کی بڑی بیٹی رغاد نے اپنے والد پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کی اپیل کی ہے۔ رغاد صدام نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ان پر ’قابضوں کی طرف سے قائم‘ عراقی حکمران کونسل کے ذریعے مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہئیے۔ اردن میں مقیم رغاد نے کہا ان سے اپنے والد کی ٹی وی پر نشر کی جانے والی تصاویر نہیں دیکھی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے سے پہلے انہیں نشہ آور دوا دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’جو بھی انہیں قریب سے جانتا ہے انہیں یہ بات معلوم ہے کہ جس شخص کو ٹی وی پر دکھایا گیا وہ صدام حسین کسی نشہ آور شے کے اثر میں تھے۔‘ ’لیکن ایک شیر شیر ہی رہتا ہے ، بھلے اسے بیڑیاں پہنائی گئی ہوں۔‘ انہوں نے کہا وہ اور ان کی بہنیں رعنا اور حالہ سابق عراقی صدر کے دفاع کے لئے ایک وکیل مقرر کریں گی۔ اردن کے کئی اخباروں میں بھی کہا گیا کہ صدام حسین کو کوئی نشہ آور شے دی گئی تھی۔
ہفتہ وار اخبار ’ال سبیل‘ کی شہ سرخی کچھ یوں تھی: ’کیا صدام حسین نے اپنی مرضی سے خود کو حوالے کیا یا انہیں نشہ آور دوا دی گئی تھی؟‘ ایک اور ہفتہ وار ’الہلال‘ میں صدام کو ’آسانی‘ سے گرفتار کئے جانے پر سوال اٹھایا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ’کئی لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ کہیں امریکیوں نے اس مشن کے دوران بے حِس کر دینے والی گیس کا استعمال تو نہیں کیا؟‘ ’الدستور‘ اخبار کے ایک تبصرہ نگار کی نظر میں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ’یہ ظاہر ہے کہ اس شخص پر اچانک چھاپہ مارا گیا اور ان پر گرفتاری کے دوران نشہ آور شے کا استعمال کیا گیا، پہلے کسی خاص قسم کی گیس سے اور پھر انہیں اس طرح کی دوا دی گئی جس سے وہ حواس باختہ ہوگئے۔‘ امریکہ کی طرف سے ان قیاس آرائیوں پر ابھی کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔ جب انہیں تکریت کے قریب ایک تہہ خانے سے نکالا گیا تو امریکی اہلکاروں نے اس وقت کہا تھا کہ ’صدام حسین حیران اور حواس باختہ‘ نظر آ رہے تھے۔ گو ان کے پاس ایک پستول موجود تھی لیکن انہوں نے کسی مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ | اسی بارے میں کیا عراقی مزاحمت ختم؟16 December, 2003 | صفحۂ اول صدام کی گرفتاری نے عرب دنیا کو جھنجوڑ دیا16 December, 2003 | صفحۂ اول صدام کی گرفتاری لمحہ بہ لمحہ16 December, 2003 | صفحۂ اول صدام کے خلاف ممکنہ مقدمات16 December, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||