BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 December, 2003, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کی گرفتاری لمحہ بہ لمحہ

صدام حسین کا باورچی خانہ
باورچی خانہ جو کسی بھی عرب رہنما کے شایان شان نہیں

صدام حسین کو سنیچر کے روز امریکی فوجیوں نے ایک مشن کے دوران ان کے آبائی شہر تکریت کے نزدیک ایک چھوٹے سے تہہ خانے سے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری جس انداز سے ہوئی وہ کوئی غیر حقیقی مہم جو کہانی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسی کہانی جس کا انتہائی انجام کئی افراد کے لئے خوشی کا باعث ہے تو کئی اس پر شدید رنجیدہ ہیں۔

امریکی فوج کو اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح دس بج کر پچاس منٹ پر ’الداور‘ قصبے میں صدام حسین کے دو خفیہ ٹھکانوں کے بارے میں اطلاع ملی تھی۔ یہ اطلاع جمعہ کے روز گرفتار کئے گئے ایک عراقی شخص نے دی تھی۔

اطلاع ملنے کے بعد فوج نے ان ٹھکانوں کو خفیہ نام ’وولورائن ون‘ اور ’وولورائن ٹو‘ دیے۔ تفصیلی منصوبہ بندی کے بعد سنیچر کی شام اندھیرا چھا جانے کے بعد چھ بجے چھ سو امریکی فوجیوں پر مشتمل ایک دستے نے اپنے کارروائی کا آغاز کیا۔

اس مشن کی قیادت، جس کا مقصد تھا ’صدام کو دھر لو یا ہلاک کردو‘ امریکی فوجی کرنل جیمز ہیکے کررہے تھے۔

تقریباً رات کے آٹھ بجے ’وولورائن ون‘ اور ’وولورائن ٹو‘ پر حملے اور تلاشی مکمل ہوگئی تاہم فوجیوں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ جس کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی اور وسیع تر تلاش کا کام شروع کیا گیا۔

وہ مقام جہاں سے صدام گرفتار ہوئے۔
یہ تہہ خانہ دریائے دجلہ کے نزدیک تھا

تلاشی مہم کے دوران فوجی ایک چھوٹے سے کچے مکان تک جا پہنچے۔ مکان کے احاطے کی تلاشی کے دوران انہیں تہہ خانے کا منہ دکھائی دیا جسے مٹی ، اینٹوں اور ایک پرانے قالین سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔

فوجیوں نے اندر جھانکا تو انہیں ایک شخص دکھائی دیا جس نے پھر ہاتھ اوپر اٹھاکر ہتھیار ڈالنے کا اشارہ کیا۔

صدام حسین کو آٹھ بج کر چھتیس منٹ پر تہہ خانے سے باہر نکالا گیا۔ ان کی حالت کچھ زیادہ اچھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ بڑھی ہوئی داڑھی، بڑھے ہوئے بکھرے بال، پیشانی پر پریشانی کی گہری لکیریں اور ایک بندوق سے لیس۔

’میرا نام صدام حسین ہے۔ میں عراق کا صدر ہوں اور میں مذاکرات چاہتا ہوں‘۔ یہ الفاظ انہوں نے انگریزی میں ادا کئے۔

لیکن شاید مذاکرات کا وقت گزر چکا تھا۔

’صدر بش کی جانب سے آپ کے لئے نیک تمنائیں‘ امریکی فوج کی جانب سے جواب ملا۔

اس آپریشن کے دوران دیگر دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ صدام کی مدد کرتے رہے ہیں۔

شان و شوکت اور جاہ و جلال والا عراق کا صدر کن حالات میں رہتا رہا؟ یہ اس کہانی کا ایک اور ہولناک پہلو ہے۔

یہ تہہ خانہ چھ سے آٹھ فٹ گہرا تھا اور اس میں صرف اتنی جگہ تھی کہ ایک شخص لیٹ سکتا تھا۔ ہوا کے لئے ایک پنکھا اور ایک سوراخ بھی تھا جبکہ روشنی کے لئے بلب بھی تھا۔

جس مکان کے احاطے میں یہ تہہ خانہ تھا اس میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ امریکی فوج کے مطابق ایک کمرے میں نئے اور پرانے کپڑوں کا ڈھیر تھا۔ جبکہ مکان کے چھوٹے سے باورچی خانے میں تازہ پانی کی فراہمی کا انتظام بھی تھا۔

باورچی خانے کی حالت انتہائی خستہ تھی۔ زمین پر انڈے کے چھلکے بکھرے تھے، سنک میں گندی پلیٹیں تھیں، نزدیک ہی باسی روٹی اور بچے کھچے چاول موجود تھے۔

ایک چھوٹے سے فریج میں چاکلیٹ، پینے کے لئے لیموں کا شربت، کافی کے اجزاء اور سوکھا گوشت تھا۔

ایک عرب رہنما کے عالیشان کمرے میں بیش قیمت فن پارے کی جگہ اس چھوٹے سے کمرے میں لگی حضرت نوح کی کشتی کی شبہہ نے لے لی تھی۔

گھر کے ساتھ کوئی باتھ روم نہیں تھا لیکن بظاہر گھر سے کچھ فاصلے پر کھودا گیا ایک گڑھا اس مقصد سے استعمال ہوتا رہا ہے۔

مکان کے احاطے میں کوڑا کرکٹ بکھرا پڑا تھا جس میں خالی بوتلیں، سڑے ہوئے پھل اور ایک ٹوٹی ہوئی کرسی تھی۔

عام خیال یہی ہے کہ صدام حسین اس مکان میں رہتے تھے اور امریکی فوج سے خطرے کے وقت تہہ خانے میں جاچھپتے تھے۔ یہ تہہ خانہ دریائے دجلہ کے نزدیک تھا اور وہاں سے صدارتی محلات صاف دکھائی دیتے تھے۔

سابق عراقی صدر کے پاس سے سات لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر، دو بندوقیں اور دستاویزات کا ایک بریف کیس بھی برآمد ہوئے ہیں۔ جبکہ سفید اور نارنجی رنگ کی ایک ٹیکسی اس گھر کے پاس ہی موجود تھی۔

فوج صدام حسین کو سوا نو بجے ایک خفیہ مقام پر لے گئی۔

صدام حسین کی گرفتاری کے بعد جیمز ہیکے نے کہا ’ہمیں جو کچھ ملا ہم اس پر بہت حیران ہیں، ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ اتنا سادہ ہوگا‘۔

اس ایک کہانی کے خاتمے کے بعد ابھی اور بھی کئی راز افشا ہونے باقی ہیں۔ مثلاً اس تہہ خانے تک کے سفر میں اور کتنی ایسی پناہ گاہیں تھیں جو صدام کے زیر استعمال رہیں؟ اس سفر میں کس نے سابق عراقی صدر کا ساتھ دیا اور کس نے نہیں دیا اور سب سے اہم یہ کہ عراقی صدر کے انجام کی کہانی ابھی اور کتنے رنگ بدلتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد