| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام کی گرفتاری نے عرب دنیا کو جھنجوڑ دیا
عرب دنیا نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری پر ملے جلے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ کوئی بے انتہا خوش ہے تو کسی کو صدام کی گرفتاری کا گہرا رنج ہے۔ کچھ کی نظر میں یہ حالیہ پیش رفت ایک بڑے خطرے کا خاتمہ ہے جبکہ دیگر افراد اسے ایک بڑے ہیرو کا زوال تصور کررہے ہیں۔ اگر آپ کو کویتی افراد کی رائے جاننے کا اتفاق ہو تو معلوم ہوگا کہ وہ صدام کو ’خوفناک مخلوق‘ جیسے القابات دیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس فلسطینیوں کے نزدیک صدام ایک بہادر رہنما تھے جنہوں نے عرب دنیا کے دشمنوں سے ٹکر لی۔ ان متضاد آراء کے باوجود ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ عرب، ذرائع ابلاغ پر صدام حسین کی حراست کی تصاویر دیکھ کر صدمے کی کیفیت میں ہیں کہ وہ شخص جو اپنے آپ کو چوبیس برس تک بطور ایک طاقتور عرب رہنما پیش کرتا رہا وہ حراست کے وقت انتہائی مجبوری اور پریشانی کی حالت میں ایک چھوٹی سی زیر زمین خندق میں تھا۔ حتٰی کہ وہ لوگ جو صدام سے شدید نفرت کرتے ہیں وہ بھی امریکی فوج کے ہاتھوں سابق عراقی صدر کی ذلت پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔ بے یقینی کی کیفیت اس بات پر بھی ہے کے صدام حسین نے اپنے آپ کو ایک بھی گولی چلائے بغیر امریکیوں کے حوالے کردیا۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ امریکی فوجیوں نے انہیں نشہ آور دوا دے رکھی تھی جبکہ دیگر لوگ انہیں ’بزدل‘ قرار سے رہے ہیں۔ کچھ تو اس حد تک سوچ رہے ہیں کہ یہ سب امریکی فوج کا ایک ڈرامہ ہے اور زیر حراست شخص سرے سے صدام ہے ہی نہیں۔ کچھ عرب تجزیہ کاروں کے مطابق صدام کا زوال دراصل ایک نظریے کا زوال ہے۔ سابق عراقی صدر کا تعلق عرب رہنماؤں کی اس نسل سے تھا جو فوجی بغاوت کی بنیاد پر اختیارات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں فلسطینیوں کی بہت حمایت کی۔ سن انیس سو نوے میں جب عراق نے اسرائیل کے خلاف سکڈ میزائیل کا استعمال کیا تھا تو فلسطینیوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔ لیکن صدام کی گرفتاری پر خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات کے پیچھے عرب دنیا میں ایک جذبہ مشترک ہے اور وہ ہے امریکہ سے نفرت۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||