| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوج پر حملہ کرنے والے خود ہلاک
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سوموار کو سمارا میں فوجی کاروان پر حملہ کرنے والے گیارہ عراقیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ عراقی دارالحکومت سے سو کلومیٹر دور ہونے والے اس جھڑپ میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ سمارا میں ہونے والی جھڑپ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ نومبر کے اواخر میں سمارا میں ہی امریکی فوج کی عراقی شدت پسندوں سے جھڑپ ہوئی تھی۔ امریکی فوج کی صدام حسین کے حامیوں کے ساتھ سنی مثلث کے نام سے معروف علاقے میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فلوجہ اور رمادی میں ہونے والے ان جھڑپوں میں کم از کم تین عراقی ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کے روز تین امریکی فوجی اس وقت زخمی ہوئے جب تکریت میں ایک امریکی فوجی گاڑی سڑک کے کنارے نصب کئے گئے ایک بم کی زد میں آ گئی۔ سوموار کے روز فلوجہ میں سینکڑوں کے تعداد میں عراقی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے امریکہ کی طرف سے تعینات کردہ میئر کے دفتر پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں مجمع میں شامل ایک بندوق بردار نے امریکی فوج پر گولیاں چلانا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی زخمی ہو گیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوج کی جوابی فائرنگ سے ایک بندوق بردار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ رمادی میں بھی، جہاں ساڑھے سات سو افراد نے صدام کی حمایت میں جلوس نکالا، اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا اور یہاں ہونے والے جھڑپ میں دو بندوق بردار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ایک امریکی فوجی کو بھی زخم آئے۔ تکریت میں سات سو افراد نے صدام کی حمایت میں جلوس نکالا لیکن یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||