| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق پر ہنگامی اجلاس
ایسے میں جب امریکہ عراق کے سیاسی مستقبل پر ازسرنو غور کر رہا ہے ایک مخصوص مدت کے لیے عراق کی عبوری انتظامیہ کے موجودہ سربراہ، جلال طلابانی نے مطالبہ کیا ہے کہ عراق میں جتنی جلد ممکن ہوسکے عبوری حکومت قائم کی جائے۔ جلال طلابانی نے کہا ہے کہ بہتر اور ضروری تو یہی ہے کہ اس سے قبل کہ عراق کے لیے کسی آئین کا مسودہ تیار کیا جائے، عراق میں عبوری حکومت قائم کردی جانی چاہیے۔ جلال طلابانی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق کی عبوری انتظامیہ کے امریکی منتظم پال بریمر غیر متوقع طور پر واشنگٹن میں ہونے والی اس بات چیت میں شریک ہوئے ہیں جہاں اعلیٰ ترین امریکی حکام عراقی عوام کو اقتدار جلد از جلد سونپ دینے کے لیے کوئی طریقہ وضع کرنے پر غور کررہے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس طرح مختصر نوٹس پر پال بریمر واشنگٹن پہنچے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چند ہنگامی نوعیت کے فیصلے کیے جارہے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ عراق کی عبوری انتظامیہ اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ مدت یعنی پندرہ دسمبر تک عراق میں آئین اور انتخابات کی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہوسکے گی۔ اس صورتحال میں انتظامی مشیر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ افغانستان کی طرح عراق میں بھی انتخابات تک کسی عبوری عراقی رہنما کا تقرر کیا جائے۔ اجلاس کے بارے میں ابھی تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں تاہم یہ ایک ایسے وقت بلایا گیا ہے جب امریکہ کو عراق میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کا سامنا ہے۔ امریکی فوج پر روزآنہ اوسطاً تقریباً تیس حملے ہوتے ہیں۔ بریمر کو واشنگٹن دورہ اتنی جلدی میں کرنا پڑا ہے کہ انہیں عراق کا دورہ کرنے والے پولینڈ کے وزیراعظم سے اپنی ملاقات بھی منسوخ کرنا پڑی۔ واشنگٹن کے اس اجلاس میں بریمر کے علاوہ وزیر خارجہ کولن پاول، سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس اور وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے شرکت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ عراق میں حفاظت اور سلامتی سے متعلق صورتحال اور عراقی حکمران کونسل کی کارکردگی سے بہت پریشان ہے۔
وہائٹ ہاؤس نے بریمر کے دورے کے مقصد کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے اور نہ ہی یہ کہ آیا انہوں نے صدر بش سے ملاقات کی یا نہیں۔ عراق میں امریکی فوج کے خلاف حملے جاری رہے ہیں۔ منگل کو عراقی دارالحکومت بغداد میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع امریکی صدر دفاتر کے قریب کم سے کم آٹھ دھماکے ہوئے۔ ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا کہ دھماکوں سے چندگاڑیوں کو نقصان پہنچا لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ تین یا چار راکٹ اس احاطے کے ’گرین زون‘ میں آگرے۔ اس جگہ سابق عراقی صدر صدام حسین کا محل واقع ہے۔ کچھ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیاکہ دھماکوں کے بعد امریکی دفاتر کے احاطے کی جانب سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||