عراق میں سیستانی اتحاد کو برتری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے نتائج کے مطابق مذہبی پیشوا آیت اللہ علی سیستانی کی سربراہی میں قائم شیعہ مسلمان امیدواروں کے اتحاد کو برتری حاصل ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ہدوں کے معاملے میں پہلے ہی جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد تین دن تک انتخابی عذرداریوں کو سنا جائے گا اور اس کے بعد انتخابات کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ فرید ایار نے کہا کہ تین دن کے اندر انتخابی اعتراضات کو نپٹانے کے بعد نتائج کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا جائے گا۔ عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کے امیدوار کو زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایاد علاوی کو مجبوراً اپنا استعفیٰ پیش کرنا پڑے گا۔ عراق میں ایک مرتبہ پھر پر تشدد واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شیعہ جو کہ انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں بھی اس تشدد میں ملوث کیا جائے۔ ہفتے کو پر تشدد واقعات میں کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے۔ بغداد کے جنوب میں ستر کلو میٹر کے فاصلے پر قائم المصيب کے قصبے میں ایک ہسپتال کے باہر کار بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہو گئے۔ المصیب میں عینی شاہدوں کے مطابق کار کو مقامی حکومت کے دفاتر کی طرف لیے جایا جا رہا تھا جب یہ ایک دھماکے سے پھٹ گئی۔ پولیس کے ایک ترجمان نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام عام شہری تھے۔ ہفتے کو بصرہ میں بھی ایک جج على طہ الامير، کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اور ان کا ڈرائیور اس حملے میں زخمی ہو گیا۔ مشرقی بغداد میں ہفتے ہی کے روز امریکی اڈے کے قریب ایک کار بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے سے ایک بس کو نقصان پہنچا اور اس میں سوار مسافر زخمی ہوگئے۔ ان زخمیوں میں شامل ایک خاتون بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ جمعہ کو ایک مسجد اور بیکری پر حملے کئے گئے تھے جن میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||