BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 January, 2005, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں شدت پسندوں کا انتباہ
عراق میں تیس جنوری کو انتخابات ہو رہے ہیں
عراق میں تیس جنوری کو انتخابات ہو رہے ہیں
عراق میں تین شدت پسند تنظیموں نے عراقی عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ نہ ڈالیں۔

عراق میں ہونے والے انتخابات کو ایک ’ گھناؤنے ڈرامے‘ کا نام دیتے ہوئےایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بھی اس ڈرامے کا حصہ بنیں گے وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور نہ کریں۔

عراقی الیکشن کمیشن نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ موصل شہر میں سات سو کے قریب انتخابی عملے نے ان دھمکیوں کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

بغداد میں تیل کے ایک کارخانے کو مارٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ اور عراقی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دورا ریفائنری میں مارٹر حملوں سے بھڑک اٹھنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اس سے پہلے ایک اور واقعہ میں شمالی شہر کرکک میں تیل کی ایک پائپ لائن کو بم سے اڑا دیا گیا۔

عراقی خاص طور پر بغداد میں رہنے والے تیل کی امریکی فوجی حملے کے بعد سے اب تک شدید ترین تیل کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

عراق میں عوام کو ووٹ نہ ڈالنے کی دھمکی انصار السناء نامی شدت پسند تنظیم کی ویب سائٹ پر دی گئی۔ اس گروپ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ موصل میں امریکی اڈے پر اس ماہ کے اوائل میں ہونے والے حملے میں اس کا ہاتھ تھا۔

اس بیان پر عراق کے شدت پسند گروپ ’اسلامک آرمی‘ اور ’مجاہدین کی آرمی‘ کے بھی دستخط ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا جہوریت ایک غیر اسلامی نظام ہے اور پولنگ اسٹیشن لادینوں کے گڑھ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن غیر اسلامی نظام کو رائج کرنے کی بنیاد بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات ایک مذاق ہیں اور یہ ایک نئی حکومت کو جائز قرار دینے کی سازش ہے جو ’صلیبیوں‘ کی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات امریکہ کے لیے ایک بڑا تحفہ ثابت ہوں گے جو کہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن اور ظالم ہے۔

عراق میں سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت عراقی اسلامی پارٹی پہلے ہی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں تشدد کی کارروائیوں کی وجہ سے منصفانہ اور غیر جانبدارنہ انتخابات کرانا نا ممکن ہے۔

سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ان انتخابات میں شرکت بہت ضروری ہے۔

عراق میں مزاحمت کارروں نے سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ ان انتخابات کو ناکام بنایا گیا ہے۔

عراقی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان انتخابات کرانے میں پرعزم ہیں۔

تاہم شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔

عراقخون خرابے کا دن
عراق میں اتوار کو کیا کیا ہوا؟
پہلی کڑی: عراقی خواتین کے تاثراتمیں عراقی ہوں
پہلی قسط: عراقی خواتین کے تاثرات
عبدالحکیمامریکی اندازے غلط
عراقی مزاحمت کے بارے میں امریکی اندازے غلط !
 سائمونا پاری اور سائمونا ٹوریٹا گوریلا جنگ جائز ہے
عراق میں دہشت گردی نہیں جنگ آزادی جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد