عراق: اتوار کو کیا کیا ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار عراق میں صرف ہنگامی حالات کے نفاذ ہی کا دن نہیں تھا بلکہ بڑے پیمانے پر تشدد اور خون خرابے کا بھی دن تھا حالانکہ اس سے پہلے سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات کو عراقی افواج نے فلوجہ پر رات میں شدید بمباری کی تھی۔ اتوار کو بغداد کے مغرب میں دو سو کلومیٹر فاصلے واقع شہر حدیثہ میں مسلح مزاحمت کاروں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور اکیس پولیس والوں کو غیرمسلح کرکے ہلاک کردیا۔ حقلانیہ شہر کے قریب مزاحمت کاروں کے ایک حملے میں چھ پولیس والے ہلاک ہوئے۔ کیمپ ڈاگوُڈ پر ایک خودکش حملے میں چھ برطانوی فوجی زخمی ہوئے۔ دیالہ صوبے میں تین عراقی اہلکار اس وقت ہلاک کر دیے گئے جب وہ اپنے ایک دوست کے جنازے میں شرکت کے لیے جارہے تھے کہ مزاحمت کاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مغربی بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ عراقی وزیر خزانہ عادل عبدالمہدی کے گھر پر کار بم کے ذریعے دھماکہ کیا گیا جس میں ان کا ایک محافظ مارا گیا۔ وہ حملے کے وقت گھر پر نہیں تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والے تشدد کی اس لہر کا مقصد فلوجہ پر سے دباؤ کم کرنا ہے کیونکہ امریکی فوج نے فلوجہ کی مکمل ناکہ بندی کر کے اسے باقی عراق سے کاٹ دیا ہے اور خیال کیا جا رہا کسی بھی وقت فلوجہ پر ایک بڑے حملہ شروع کر دیا جائے گا۔ سنیچر کو سمارا شہر میں مختلف حملوں میں تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے اور امریکی فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس نے چوبیس گھنٹوں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سات فضائی حملے کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||