ووٹنگ کے بعد: ہم امید کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوسف عراق کے شہر بصرہ میں ایک ڈاکٹر ہیں۔ ان کی عمر پینتالیس سال ہے۔ ان کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں۔ ان کے تین بچے ہیں۔ اتوار کےروز ہونے والی ووٹنگ پر یوسف کا ردعمل یہ ہے: ’ہر شخص ووٹنگ کے بارے میں کافی خوش تھا اور گزشتہ شب کوئی برا واقعہ نہیں پیش آیا۔ بصرہ میں خاموشی تھی۔ کرفیو ابھی بھی ہے، سڑکوں پر صرف پیدل چلنے والوں کو نقل و حرکت کی اجازت ہے، آپ اپنے لوکل ایریا کے آس پاس گھوم سکتے ہیں لیکن اضلاع کے درمیان نہیں، اور کاریں سڑکوں پر نہیں چل سکتیں۔ اس لئے گزشتہ شب میں باہر نہیں گیا، میں نے بصرہ میں کچھ لوگوں سے فون پر بات چیت کی، یہ معلوم کرنے کے لئے کہ حالات کیسے رہے۔ اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ قریبی دوستوں میں بھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کس جماعت کو ووٹ دیا، ایسے جیسے یہ سب کچھ راز کی بات ہو۔۔۔۔ کل کے بارے میں سوچتا ہوں، یہ سب کچھ عراقی عوام کے لئے نیا تھا۔ میری عمر پینتالیس سال ہے اور جب سے میں ٹینیجر تھا ہم اس طرح کے جمہوری عمل سے کبھی نہیں گزرے تھے۔ اس دفعہ سب کو ووٹنگ کی اجازت تھی، آپ جس بکس میں چاہے نشان لگاسکتے تھے اور جن لوگوں کو چاہے منتخب کرسکتے تھے جن سے آپ کو بہتری کی امید تھی۔ میں سیاست میں یقین کرتا ہوں، لیکن جتنے لوگوں کو میں جانتا ہوں وہ سوچتے ہیں کہ یہ سب کچھ پہلے سے کسی نے لکھ دی تھی اور ہم اس کی پیروی کررہے تھے، جیسے کہ فائنل فیصلہ پہلے سے طے ہوگیا ہو۔ آج صبح ایک عربی ٹیلی ویژن نے کچھ بیلٹ باکسوں کے گم ہوجانے کی اطلاع دی، گم ہونا کہہ لیں یا چوری کہیں۔
مجھے نہیں معلوم ہے کہ میں یقین کروں یا نہیں، لیکن امریکی اور برطانوی یہاں صرف جمہوریت لانے اور واپس چلے جانے کے لئے نہیں آئے، ان تمام قربانیوں کے بعد جو انہوں نے دی ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے حوالے نہیں کردیں گے جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔ پھر بھی میں پریشان نہیں۔ ہم اسے چاہتے ہیں جو قانون کی پابندی کرے گا اور پابندی کرائے گا، جب تک کہ وہ عراقی ہے اور عراق میں یقین رکھتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ علاوی جیت جائیں گے لیکن ہم بتا نہیں سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ غیرملکی فورسز یہ سب ممکن بنائیں گی۔ ان کے علاوہ دوسرا کوئی شخص نہیں جو اس چیلنج کا سامنا کرسکے۔ اگرچہ میں عراق پر قبضے سے نفرت کرتا ہوں، پھر بھی میں ان لوگوں کی عراق میں چند برسوں کے لئے موجودگی کا خیرمقدم کرتا ہوں، جب تک ہم جمہوریت حاصل نہیں کرلیتے۔ جیسے ہی ہم اتنے مضبوط ہوجائیں گے کہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، وہ جاسکتے ہیں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں چلے جائیں گے۔ اگر وہ آئندہ چھ ماہ میں چلے جائیں تو عراق خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔ بصرہ میں ہمیں کافی اذیت سے گزرنی پڑی ہے۔ ہمیں ایران۔عراق جنگ میں جن حالات سے گزرنا پڑا ان کے سامنے آج کل سب کچھ آسان لگتا ہے۔۔۔۔‘ ابو حریث عراق کے شہر ہیت میں ایک دکان پر کام کرتے ہیں۔ ان کی عمر چالیس سے زائد ہے۔ ان کے چار بچے ہیں۔ وہ انگریزی کے طالب علم بھی ہیں۔ اتوار کی ووٹنگ پر ان کا ردعمل یہ ہے: ’آج سب کچھ پرامن ہے، گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں موسم ٹھیک ہے، بجلی کی فراہمی ٹھیک نہیں ہے۔ آسمان میں فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی نہیں دکھائی دے رہے اور فوجی بھی نہیں ہیں۔ کل ہیت میں، صبح کی خاموشی کے بعد، دوپہر کو حالات خراب ہوگئے اور فائرنگ سنی گئی۔
ہیت میں مجھے یقین ہے کہ کسی نے ووٹ نہیں دیا کیونکہ ایسا کرنا محفوظ نہیں تھا۔ پولنگ بوتھ شہر سے ایک کلومیٹر دور تھا، لوگ وہاں جا نہیں سکتے تھے۔ مزید یہ کہ یہاں ابھی بھی کرفیو ہے، پرائیوٹ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ ہمیں پیدل چل کر ہی کہیں جانا پڑتا ہے۔ میں ان حالات میں ووٹ نہیں دے سکتا تھا۔ کل جن لوگوں سے میں نے بات کی انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ انتخابات میں حصہ لیتے تاکہ ہمیں اسمبلی میں مزید نمائندگی مل سکتی۔۔۔۔ کل میرے گھر والے کچھ پریشان تھے۔ میری اہلیہ کے رشتہ دار بغداد میں رہتے ہیں، وہ وہاں کی رہنے والی ہیں۔ کمیونیکشن خراب ہونے کی وجہ سے وہ ان سے بات نہیں کرسکی، یہ معلوم کرنے کے لئے وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ہم ابھی بھی کوشش کررہے ہیں۔ میری بیٹی گزشتہ شب فائرنگ اور طیاروں کی شور سے پھر گھبرا گئی تھی۔ ہمارا بڑا بیٹا رات ہمارے پاس رہنے کے لئے آیا کیوں کہ ہم اس کے بارے میں پریشان تھے۔ ایک ہفتے کے اندر بچے اسکول جانے والے ہیں۔ عام طور پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہیں لیکن ہمیں ان پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ لہذا، آج کل وہ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں اور ٹی وی دیکھتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی بجلی نہیں آنے کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہیں۔۔۔۔ میری ایک دوست نے اپنے بیٹے کو پڑھنے کے لئے سوڈان بھیج دیا کیوں کہ وہاں محفوظ ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||