’میرا بھائی مر گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں آنے والے زلزلے اور سونامی کی وجہ سے ایشیاء کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس علاقے میں کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح موجود تھے جنھوں نے دنیا کو وہاں پیش آنے والی صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنی داستانیں سُنائیں۔ درج ذیل کہانی بی بی سی سری لنکا کے رولینڈ بیورک کی ہے۔ ’ہمیں کسی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ہم نے اسے آتے دیکھا۔ میں اور میری بیوی ساحل سے کچھ میٹر کی دوری پر واقع ایک ہوٹل کی نچلی منزل کے ایک کمرے میں سو رہے تھے جب کرسیوں اور میزوں کے زبردست شور اور لوگوں کی چیخ و پُکار کی آوازوں سے اچانک ہماری آنکھ کھل گئی۔ پانی دروازے کے نیچے سے کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ جیسے ہی ہم نے دروازہ کھولا تو پانی کے شدید دباؤ سے کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور ہم پانی میں بہہ کر راہداری تک پہنچ گئے۔ ہم کرسیوں اور میزوں سے اپنا بچاؤ کر رہے تھے، برتن ٹوٹ رہے تھے اور لوگ چیخ رہے تھے۔ بہتے ہوئے ہم ہوٹل کے پچھلی جانب موجود ریستوران میں آ پہنچے۔ پھر ہم نے ایک درخت کو مضبوطی سے تھام لیا اور اس پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن پانی کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ درخت جُھک گیا۔ ہم زیادہ دیر درخت کا سہارا نہ لے سکے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے کی طرف بہتے چلے گئے۔ پانی کا زور اتنا تھا کہ ہمارے ساتھ موٹرسائیکلیں، گاڑیاں اور ٹوٹی ہوئی دیواروں کے ٹکڑے بھی بہہ رہے تھے۔ جان بچانے کے لیے تیرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ایک گھر کے برآمدے سے گزرتے ہوئے ہم نے وہاں موجود ایک ستون کو تھام لیا۔ اس وقت پانی کا دباؤ کم ہوگیا تھا۔ ایک خاموشی سی چھا چکی تھی اور صرف ساڑھی میں ملبوس ایک عورت کی دردناک آواز اسے توڑ رہی تھی ۔ پھر ان لوگوں کی آوازیں بھی آنے لگیں جو چِلاّ چِلاّ کر اپنے پیاروں کو آوازیں دے رہے تھے مگر وہ کھو چُکے تھے۔ قریب ہی ایک جوان برطانوی عورت تیر رہی تھی اور ’چارلی! چارلی! ‘ کہہ کر آوازیں دے رہی تھی۔ ہم نے اس کے مدد کی تو اس نے لڑکھڑاتی آواز میں بتایا ’میں نے اپنے بوائے فرینڈ کو کھو دیا ہے‘۔ اچانک وہ چلائی۔ چارلی خون میں لت پت بڑی دقت سے ہماری ہی جانب بڑھ رہا تھا۔وہ بھی مکمل جذبات میں اس کی جانب ہاتھ پاؤں مارنے لگی اور جیسے ہی ایک دوسرے کے قریب پہنچے انھوں نے پانی میں ایک دوسرے کو گلے سے لگالیا۔ اس دوران ایک ادھیڑ عمر شخص قریب سے یہ الفاظ دہراتا ہوا گزرا ’میرے بیوی تیرنے گئی تھی‘۔ زندہ بچ جانے میں ایک قسم کا نشہ ہوتا ہے۔
ہمارے چاروں اطراف لاشیں اور زخمی تھے لیکن ہمیں ایک خراش تک نہ آئی تھی۔ سمندر نے کاروں تک کو اٹھا کر درختوں میں پٹخ دیا تھا لیکن ہمیں چھوا تک نہ تھا۔ ہر طرف لوگ کسی اونچی جگہ کی تلاش میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ میں تقریباً خوش محسوس کررہا تھا کہ میں دوسروں کو تسلی دے سکتا ہوں۔ یہ ایک شرمناک کیفیت تھی لیکن یہ کسی بھی طرح جا نہ رہی تھی۔ اچانک پھر افراتفری پھیل گئی اور لوگ چِلاّئے ’ایک اور لہر آرہی ہے‘۔ اس میں کویی سچ نہ تھا لیکن ہم پھر بھی جانیں بچانے کے لیے علاقے کے نزدیک موجود پہاڑیوں کی جانب دوڑے اور وہاں بڑے بڑے پتھروں پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس جگہ پر ہماری ملاقات اپنے ان دوستوں سے ہوئی جو چھٹیاں گزارنے کے لیے ہمارے ہمراہ سری لنکا آئے تھے اور اسی ہوٹل کی بالائی منزل کے ایک کمرے میں ٹہرے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی جان چھت پر چڑھ کر بچائی تھی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں اور ہمارے بارے میں ان کی بھی کچھ ایسی ہی سوچ تھی کیوں کہ جب وہ ہماری تلاش میں کمرے میں پہنچے تو کمرہ پانی سے تباہ ہو چکا تھا۔ ظاہر ہے اس قسم کے حالات کو دیکھ کر کون امید کر سکتا تھا کہ کوئی زندہ بھی بچ سکتا ہے۔ ہم نے پہاڑ کے اوپر سے سمندر کا نظارہ کیا۔ سمندر غصے سے ابل رہا تھا۔ پانی کچھ دیر کے لیے گیا اور پھر لوٹ آیا۔ ہم وہاں بہت دیر تک رکے رہے اور لوگ ہمارے پاس سے گزرتے رہے۔ ہمیں ایک برطانوی کنبہ دکھائی دیا جن کے ساتھ ایک سری لنکن ان کے بچے کی لاش اٹھائے ہوئے تھا۔ اس میں سے ایک منا سا پاؤں باہر نکلا ہوا تھا۔ انگلینڈ کی فٹبال شرٹ پہنے ہوئے ایک لڑکے نے کہا ’میرا بھائی مر گیا‘۔ اس نے یہ بات ایسے کہی جیسے یہ کوئی عام سی حقیقت ہو۔ وہ سب بےحس لگ رہے تھے۔ وہ ہمارے قریب سے گزرتے چلے گئے نجانے کس منزل کی طرف۔ اگلے روز ہمارے ساتھ بچ جانے والوں نے ہمیں کچھ کپڑے دیئے اور ہم قریب ترین شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔ ساحل کے ساتھ ساتھ چلنے والی سڑک سے تباہی اپنی مکمل بھیانک شکل میں نظر آرہی تھی۔ گھر اور دکانیں تباہ ہو چکی تھیں۔ کشتیاں سینکڑوں میٹر تک زمین پر اندر آکر گری تھیں۔ شہر میں ہم وہاں سےگزرے جہاں ایک دن پہلے تک بازار ہوتا تھا۔ گاڑیاں اور بسیں تنگ گلیوں میں کھلونوں کی طرح الٹی پڑی تھیں۔
لوگ خوراک، پانی اور اپنے عزیزوں کے لاشوں کی تلاش میں تھے۔ آس پاس کے تباہ شدہ علاقے سے خاندانوں کے ماتم کی آوازیں آرہی تھیں۔ جنہیں کوئی نہ ملا وہ سڑک کے کنارے بیٹھے روتے تھے۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد کوئی نہ کوئی شخص ہمارے پاس آکر اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا کہ ہم ان کے ملک میں بطور مہمان آئے تھے لیکن ہمیں اس قسم کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم ان سے کہتے کہ ہمیں بھی افسوس ہے، اس سب کا جو کھوچکا۔ لیکن یہ سارے الفاظ غیر ضروری تھے اور ہمیں یہ حساس بھی دلاتے رہے کہ اس وقت ہمیں صرف کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کی فکر تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||