لاکھ سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ: ریڈکراس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ بحر ہند میں اتوار کو زلزلے سے اٹھانے والے بدترین سمندری طوفان میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے سے تجاوز کرسکتی ہے۔ ادارے کے ایک اعلی اہلکار پیٹر ریس نے کہا ہے کہ بھارت کے جزائر اینڈمان اور نکوبار میں جانی نقصان کے صحیح اعداو شمار سامنے آنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔ اس طوفان میں اب اڑسٹھ ہزار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے اور مغربی ممالک امدادی کارروائیوں کو تیز کر رہے ہیں۔ امریکہ نے طوفان سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے پہلے سے اعلان شدہ اپنی امداد کو دوگنا کر دیا ہے۔ انڈونیشیا کے جزیرے سوماٹرا کے ساحل کے قریب سطح سمندر میں شدید زلزلے نے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر نو درجہ تھی بحر ہند میں تلاطم مچا دیا جس کی لہریں چھ ہزار کلو میٹر سفر کر کے افریقہ کے ساحل تک پہنچیں۔ افریقہ کے ساحل پربھی ہزاروں ماہی گیر ہلاک اور لاپتہ ہو گئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے سے بھی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس طرح کی زلزلوں سے پیدا ہونے والی سومانی طوفانوں سے بچنے کے لیے ایک حفاظتی نظام قائم کر رہا ہے۔ ُُسائنسدانوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بحر ہند کے ساحلوں پر واقعے ممالک میں بھی قبل از وقت خبردار کرنے کا ایسا ہی نظام موجود ہوتا جو بحرالکاہل کے کناروں پر واقع ممالک میں قائم ہے تو بہت سی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔ برطانوی حکومت نے بھی بدھ کو پندرہ لاکھ پونڈ کی امداد کا اعلان کیا اور یوں یہ امداد مہیا کرنے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا۔ امریکی بحریہ کے جہازوں کے دو قافلے جن پر پندرہ ہزار کے قریب فوجی سوار ہیں امدادی اشیاء لے کر متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ دریں اثناء جرمنی کے چانسلر گریہارڈ شوراڈر نے کہا ہے کے طوفان سے متاثرہ انڈونشیا اور صومالیہ کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کو موخرء کر دیا جائے۔
بہت سے دوسرے ملک جن میں کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک شامل ہیں متاثرہ ملکوں کی امداد کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا میں ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو اجتماعی قبریں کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے انڈونشیا کے صوبائی دارالحکومت بند آچے سے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے صرف بیس منٹ کے وقفے میں لاشوں سے بھرے دس ٹرکوں گنے جن کو ایک اجتماعی قبر میں دفنانے کے لیے لیجایا جا رہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||