BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 December, 2004, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاکھ سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ: ریڈکراس
متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے
بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا ہے کہ بحر ہند میں اتوار کو زلزلے سے اٹھانے والے بدترین سمندری طوفان میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے سے تجاوز کرسکتی ہے۔

ادارے کے ایک اعلی اہلکار پیٹر ریس نے کہا ہے کہ بھارت کے جزائر اینڈمان اور نکوبار میں جانی نقصان کے صحیح اعداو شمار سامنے آنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔


اس طوفان میں اب اڑسٹھ ہزار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے اور مغربی ممالک امدادی کارروائیوں کو تیز کر رہے ہیں۔ امریکہ نے طوفان سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے پہلے سے اعلان شدہ اپنی امداد کو دوگنا کر دیا ہے۔

انڈونیشیا کے جزیرے سوماٹرا کے ساحل کے قریب سطح سمندر میں شدید زلزلے نے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر نو درجہ تھی بحر ہند میں تلاطم مچا دیا جس کی لہریں چھ ہزار کلو میٹر سفر کر کے افریقہ کے ساحل تک پہنچیں۔ افریقہ کے ساحل پربھی ہزاروں ماہی گیر ہلاک اور لاپتہ ہو گئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے سے بھی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

News image
ملبے سے لاشیں ابھی تک نکالی جارہی ہیں

بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس طرح کی زلزلوں سے پیدا ہونے والی سومانی طوفانوں سے بچنے کے لیے ایک حفاظتی نظام قائم کر رہا ہے۔

ُُسائنسدانوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بحر ہند کے ساحلوں پر واقعے ممالک میں بھی قبل از وقت خبردار کرنے کا ایسا ہی نظام موجود ہوتا جو بحرالکاہل کے کناروں پر واقع ممالک میں قائم ہے تو بہت سی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

برطانوی حکومت نے بھی بدھ کو پندرہ لاکھ پونڈ کی امداد کا اعلان کیا اور یوں یہ امداد مہیا کرنے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا۔

امریکی بحریہ کے جہازوں کے دو قافلے جن پر پندرہ ہزار کے قریب فوجی سوار ہیں امدادی اشیاء لے کر متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء جرمنی کے چانسلر گریہارڈ شوراڈر نے کہا ہے کے طوفان سے متاثرہ انڈونشیا اور صومالیہ کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کو موخرء کر دیا جائے۔

News image
مرنے والے سیاحوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے

بہت سے دوسرے ملک جن میں کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک شامل ہیں متاثرہ ملکوں کی امداد کر رہے ہیں۔

انڈونیشیا میں ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو اجتماعی قبریں کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے انڈونشیا کے صوبائی دارالحکومت بند آچے سے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے صرف بیس منٹ کے وقفے میں لاشوں سے بھرے دس ٹرکوں گنے جن کو ایک اجتماعی قبر میں دفنانے کے لیے لیجایا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد