BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 December, 2004, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
120,000 جانیں سیلاب و طوفان کی نذر
تامل ناڈو میں متاثرین کو امداد دی جا رہی ہے
متاثرین کو بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے
بحر ہند کے سیلاب اور زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب ایک لاکھ بیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔ یہ تباہی اتوار کے روز سے پھیلنی شروع ہوئی تھی اور ہلاک شدگان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

صرف انڈونیشیا ہی میں سیلاب کی نذر ہونے والے افراد کی تعداد حکام 80 ہزار بتا رہے ہیں۔ اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

امدادی کارکن ان لاکھوں افراد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کی جانیں تباہ کن لہروں سے تو بچ گئی ہیں تاہم ان کے پاس اشیائے خوردنی اور سر چھپانے کی جگہ کی شدید قلعت ہے۔

امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء پہنچا رہی ہیں تاہم اب بھی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کئی دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک ان ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔

بحر ہند میں مزید زلزلوں کے جھٹکوں اور سونامی لہروں کے پیدا ہونے کے خدشے نے بھارت اور انڈونیشیا میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت نے مل کر زلزلے اور طوفان سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد بنایا ہے۔

عالمی برادری نے 220 ملین ڈالر کی امداد پہنچانے کا عہد کیا ہے جس میں سے 35 ملین ڈالر امریکہ فراہم کرے گا۔


امریکہ نے پہلے ہی اپنی بحریہ کو امدادی کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لیے بھی بھیج دیا ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کے پوری طرح سے شروع کرنےمیں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں جو کہ امداد کے منتظر لاکھوں افراد کے لیے زندگی و موت کا معاملہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’ابھی ہم امداد کے لیے بہت کم کوششیں کررہے ہیں اور میرے خیال میں آنے والے وقت میں متاثرین مزید الجھن اور پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔‘

انڈونیشیا کے دارالحکومت آچے میں لوگ پہلے ہی مشتعل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ متاثر ہونے والے ایک شخص کا کہنا تھا ’ہمیں چاول اور ادویات کی ضرورت ہے۔ میں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ہے‘۔

کم از کم پچاس لاکھ لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے بنیادی مدد کی ضرورت ہے۔

News image
ملبے سے لاشیں ابھی تک نکالی جارہی ہیں

ریڈ کراس کے ایک اعلٰی اہلکار پیٹر ریس نے کہا ہے کہ بھارت کے جزائر اینڈمان اور نکوبار میں جانی نقصان کے صحیح اعداو شمار سامنے آنے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

جنوبی سری لنکا میں متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومتی امداد بہت کم ہے۔ گال میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈومیتھا لتھرا کے مطابق متاثرین کو پانی کی بوتلیں اور بسکٹ دیے گئے ہیں لیکن یہ ان کی ضرورت سے بہت کم ہیں۔

انڈونیشیا کے صوبے آچے کے دارالحکومت باندا آچے میں غیرملکی مدد طیارے اترنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن امداد کا زیادہ کام ابھی بھی ہزاروں لاشوں کو اکٹھا کرنا ہے۔

بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں مقامی امدادی ایجنسیاں خوراک، کپڑے اور کمبل تقسیم کر رہی ہیں۔

دوسری طرف تامل ناڈو کی حکومت نے ریاست میں سونامی طوفان کی نئی وارننگ دی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ جزائر انڈامان اور نکوبار میں دوبارہ آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے بری لہریں دوبارہ ساحل کی طرف آ سکتی ہیں۔ حکومت نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ساحلی علاقے چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے سے بھی بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس طرح کی زلزلوں سے پیدا ہونے والی سومانی طوفانوں سے بچنے کے لیے ایک حفاظتی نظام قائم کر رہا ہے۔

ُُسائنسدانوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بحر ہند کے ساحلوں پر واقع ممالک میں بھی قبل از وقت خبردار کرنے کا ایسا ہی نظام موجود ہوتا جو بحرالکاہل کے کناروں پر واقع ممالک میں قائم ہے تو بہت سی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

برطانوی حکومت نے بھی بدھ کو پندرہ لاکھ پونڈ کی امداد کا اعلان کیا اور یوں یہ امداد مہیا کرنے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا۔

دریں اثناء جرمنی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈر نے کہا ہے کے طوفان سے متاثرہ انڈونشیا اور صومالیہ کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کو مؤخر کر دیا جائے۔

News image
مرنے والے سیاحوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے

انڈونیشیا میں ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں کو اجتماعی قبریں کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے انڈونشیا کے صوبائی دارالحکومت بند آچے سے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے صرف بیس منٹ کے وقفے میں لاشوں سے بھرے دس ٹرک گنے جن کو ایک اجتماعی قبر میں دفنانے کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
سونامی سے بربادی کے مناظرسونامی سے بربادی
سمندری زلزلے سے آنے والی تباہی کی تصاویر
’خوش قسمت ہوں‘’خوش قسمت ہوں‘
مدراس میں بچ جانے والوں کی کہانیاں
سنامی سے متاثر شخصماہرین کی رائے
سونامی کی قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی؟
سونامی سے متاثرہ بھارت کے جنوبی ساحل سے سنیل رمن کی رپورٹسونامی کےمتاثر لوگ
بھارت کے جنوبی ساحل سے سنیل رمن کی رپورٹ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد