BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 December, 2004, 21:12 GMT 02:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرین کے ڈبے پانی میں لڑھکتے رہے
بچ جانے والے محفوظ مقامات تک ہہنچنے کے لیے میلوں چلتے رہے
بچ جانے والے محفوظ مقامات تک ہہنچنے کے لیے میلوں چلتے رہے
سمندر کی ملکہ نامی ٹرین سری لنکا کے ساحل کے ساتھ بچھی پٹری پر سفر کرتی ہوئی اپنی منزل سے کچھ میل کے فاصلے پر ایک سگنل پر آ کر رکی ہی تھی جب اسے بحرہند میں زلزلے سے برپا ہونے والے طوفان نے آ لیا۔

دنیا کے اس بدترین ریل کے حادثے میں بچ جانے والے دو مسافروں نے بی بی سی نیوز کو اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی لہر نے اس ٹرین کو ایک زبردست جھٹکے سے ایک طرف دھکیل دیا۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے گالے جانے والی اس مسافر ٹرین میں پندرہ سو کے قریب مسافر بھرے ہوئے تھے۔

سمندر سے اٹھنے والے طوفانی لہروں نے ٹرین کی آٹھ بوگیوں کو اچھال دیا اور ساحلی کے ساتھ ساتھ بچھی ہوئی ریل کی پٹری کو بالکل تنکوں کی طرح مڑڑو تڑو دیا۔

دیا وجئے گرووردھنے کی طرح بہت سے مسافر اپنی بیوی بچوں کے ہمراہ چھٹیوں کے دوران گالے میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے جا رہے تھے۔

News image
’میں دعا کرتا رہا شاید اسی وجہ سے میں بچ گیا‘ جئے گرووردھنے

سونامی کی قہر انگیز لہریں ٹرین کے ڈبوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئیں اور وجئے گرووردھنے نے اپنے آپ کو بچوں سے دور پانی سے بھرے ڈبے میں تیرتا ہوا پایا۔

باسٹھ سالہ جے گرووردھنے نے کہا کہ ٹرین سگنل پر رکی ہی تھی کہ سمندری لہریں اس سے آ کر ٹکرائیں۔ یہ لہریں اتنی بلند تھیں اور اس تیزی سے آئیں کہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

لہروں کے زور پر ٹرین کے ڈبے لڑھکتے لڑھکتے کافی دور ایک اونچائی پر آ کر ٹھر گئے۔

جئے گروورھنے نے کہا ’مجھے لگا کہ ہم سب مر گئے ہیں اور میں دل ہی دل میں خدا سے دعائیں مانگتا رہا اور شاید اسی وجہ سے میں بچ گیا۔‘ جئے گرووردھنے نے کہا کہ 45 منٹ کی کوشش کے بعد وہ ایک کھڑکی سے باہر نکلے میں کامیاب ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ الٹے ہوئے ڈبے میں پانی بھرا ہوا تھا اور سب لوگ کھڑکیوں اور دروازوں سے ایک ساتھ نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

باہر نکل کر جئے گرووردھنے نے دیکھا، چاروں طرف تباہی ہی تباہی پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے 32 سالہ بیٹے دومندا اور 31 سالہ بیٹی کشانی کو پانی میں تیرتے ہوئے پایا۔ دونوں خیریت سے تھے۔

News image
پانی کے زور نے پٹری کومڑو تڑوڑدیا

جئے گرووردھنے نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ٹرین میں پندرہ سو کے قریب مسافر سوار تھے جس میں سے ایک ہزار مسافر ہلاک ہو گئے۔

جئے گرووردھنے نے اپنے بچوں کے ساتھ ایک مندر میں پناہ لی لیکن مزید طوفان آنے کے خدشے کے پیش نظر انہیں محفوظ مقام پرمنتقل ہونا پڑا۔

وہ اپنے بچوں کے ساتھ تین کلو میٹر تک ایک پہاڑی پر چڑھے جہاں پر انہیں ایک سکول میں پناہ ملی۔

اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح، دانی شائف جو لندن میں مقیم ہے اس ہی ٹرین پر سوار تھے۔

شائف نے کہا کہ وہ اس وقت گھبرا گئے جب ٹرین ایک لہر کے جھٹکےسے الٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس قدر تیزی سے ہوا اور ٹرین کی بوگی کافی فاصلے تک الٹتی ہوئی چلی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ ایک عورت اپنے بچے کو گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ سے کھڑکی کو تھام لیا لیکن پانی کی وجہ سے کھڑکی بند ہو گئی۔

دانی نے کہا کہ وہ سمجھے موت کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنی سانس روک لی۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ ٹرین کے ڈبے نے ایک پلٹا کھایا اور پانی ایک طرف سے نکل گیا۔ دانی اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر ڈبے سے باہر آگئے لیکن بدقسمت عورت ڈبے میں پھنسی رہی۔ دانی نے کہا کہ ٹرین میں بہت سے بچے سوار تھے۔

بدھ کو اس ٹرین میں مرنے والے بہت سے مسافروں کو ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا۔

طوفان کے تین دن بعد امدادی کام کرنے والوں نے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام روک دیا ہے اور وہ بچ جانے والے افراد کی امداد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مرنے والوں کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور مرنے والوں کے لیے کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد