BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 December, 2004, 01:50 GMT 06:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رضا کار خوشیاں بانٹ رہے ہیں

News image
سری لنکا میں متاثرہ لوگ کئی دن سے مناسب کھانے سے محروم ہیں۔
بحر ہند میں سونامی سے تباہی کے بعد جب حکومتیں امدادی کاموں میں سست ہے تو کچھ رضا کار تباہ حال لوگوں میں خوشیاں بانٹ رہے ہیں۔

سینٹ ایلوسس کالج ہال گالے کے ہال میں بیٹھے اسانتھا 200 لوگوں میں سے ایک ہیں جن کا گاؤں ساحل سمندر سے چند میڑ دور تھا۔ اب اس گاؤں کا کوئی نام و نشان نہیں رہا۔

اسانتھا بتاتا ہے کہ اس کا گاؤں، کالوالا، کا اب کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا ہے اور اب وہ یہ بھی نہیں پہچان سکتا کہ اس کا گھر کہاں سے شروع ہوتا تھا اور اس کے پڑوسی کا گھر کہاں پر تھا۔

اسانتھا ان چند خوش قسمتوں میں سے ایک ہیں جن کو اس تباہی کے بعد کچھ امداد ملی ہے۔

جنوبی سری لنکا جہاں اس سمندری طوفان نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ہے، وہاں لوگوں کی اکثریت آج بھی امداد کی منتظر ہے۔

حکومتی وزیر، آرمی افسران اور پولیس افسر ناکوں پر رومال رکھے پھر رہے ہیں لیکن امداد کہیں نظر نہیں آتی۔

سری لنکا فوج کے میجر کاوس رتنائیکے کا کہنا ہے کہ وہ غور کر رہے ہیں کہ ملبے کو کیسے ہٹایا جائے اور سڑکوں کو کیسے کھولا جائے۔

لیکن جہاں حکومت امدادی کاموں میں سست ہے وہاں کچھ رضا کار اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں۔

بسیر، جہان اور پرییام ان چند رضاکاروں میں سے ہیں جو تباہ حال لوگوں میں خوشیاں پہنچا رہے ہیں۔

جہان نے بتایا کہ وہ روڈ ٹریک کلب جو روٹری کلب کی ایک ذیلی شاخ ہے، کے ممبر ہیں۔

جہان نے ٹی وی پر لوگوں کی کسمپرسی کی حالت دیکھی اور وہ تین ٹرکوں اور دو جیپوں پر کھانے کا سامان، کپڑے اور پینے کا صاف پانے لے کر جنوبی سری لنکا کے علاقے میں پہنچ گئے۔

کولمبو سے پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ اس علاقے میں پہنچے ہیں جہاں سیلاب کی تباہ کاریاں برسوں تک لوگوں کو یاد رہیں گے۔ رضاکاروں کے اس گروپ کو متاثرہ لوگوں کو ڈھونڈے میں چند گھنٹے لگ گئے۔

بالاخر وہ ایک گاؤں کو ایسے گاؤں کو ڈھونڈے میں کامیاب ہوگئے جہاں ابھی تک کوئی کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملی ہے۔

رضاکاروں کا یہ گروپ جب اس گاؤں میں پہنچا تو بیس منٹوں میں یتیم بچوں، بوڑھے مرد عورتیں، جن میں کئی کا ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں، کا ایک ہجوم وہاں جمع ہو گیا۔

رضاکاروں کی طرف سے دیے گیے ایک بیگ جس میں کھانے کی چیزیں، صاف پانی کی بوتلوں کوسینے سے ہوئے نکشانگے نے بتایا اس نے اتوار سے ابھی تک کوئی مناسب کھانا نہیں کھایا تھا اور اب وہ اس خواراک کو اپنے بچوں کے پاس کے لے کر جائے گا۔

بسیر نے بتایا کہ وہ پروفیشنل نہیں ہیں اور وہ صرف مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد