عراق: حکومت سازی کی کوششیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کامیابی حاصل کرنے والے متحدہ عراقی اتحاد نے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرے گا۔ کامیاب ہونے والے اتحاد کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے عراق کی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ عبدل عبدل مہدی کا نام لیا جا رہا ہے۔ متحدہ عراقی اتحاد نے تقریباً پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور ان کے پاس پارلیمان میں واضح اکثریت نہیں ہوگی۔ دوسرے نمبر پر آنے والے کرد جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ آیت اللہ سیستانی کی قیادت میں قائم متحدہ عراقی اتحاد کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں۔ مخلوط حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ نئی پارلیمان کے فرائض میں ملک کو نیا آئین دینا شامل ہے۔ متحدہ عراقی اتحاد کے پاس آئین کی منظوری کے لیے پارلیمان میں دو تہائی ووٹ نہیں ہیں۔ عراق کے عبوری وزیر اعظم کی جماعت نے انتخابات میں چودہ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ کرد جماعتوں کے اتحاد نے چھبیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عراق میں انتخابات کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ صدر جارج بش نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو عراق میں انتخابات کے انعقاد پر اپنے کردار پر فخر کرنا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||