BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 February, 2005, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم دھماکےاور فائرنگ،22 ہلاک
عراق
عراق میں تشدد اور دھماکے معمول بن چکے ہیں
عراق میں ایک مسجد کے باہر بم دھماکے اور بیکری پر حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بغداد کے شمال مشرق میں ایک شیعہ مسجد کے باہر ایک بم دھماکا ہوا جس میں تیرہ افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکا بلاد رز کے قصبے میں اس وقت ہوا جو لوگ جمعہ کی نماز کے بعد مسجد سے باہر آرہے تھے۔مرنے والوں میں تین بچے اور عراقی نیشنل گارد کے متعدد اراکین بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق بم مسجد کے باہر موجود سبزیوں کے ایک ٹرک میں رکھا گیا تھا۔

ادھر مشرقی بغداد میں مسلح افراد نےایک بیکری میں فائرنگ کر کے نوافراد کو ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ نقاب پوش حملہ آور اچانک بیکری میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔ سات افراد موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دو افراد نے اسپتال میں دم توڑا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے قبل جنوب مشرقی بغداد میں ایک جھڑپ میں دس عراقی پولیس والے ہلاک ہوگئے تھے۔ مزاحمت کاروں نے گھات لگا کر پولیس کے اس قافلے پر حملہ کیا جو کار بم دھماکے کے ملزمان کو تلاش کر رہے تھے۔یہ جھڑپ دو گھنٹے تک جاری رہی۔

امریکی وزیرِدفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ عراق کے ایک روزہ دورے پر ہیں جس کے بارے میں ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد عراقی حفاظتی دستوں کی تربیت کے عمل کا جائزہ لینا ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ سیکیورٹی کے زیادہ سے زیادہ انتظامات عراقیوں کے حوالے کر دیے جائیں لیکن اس کے ملے جلے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد