کرکوک میں بارہ عراقی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں فوج کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق عراق میں تیل سے مالا مال شمالی شہر کرکوک میں گھات لگا کر کیے گئے حملے میں بارہ عراقی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ میجر جنرل انوار امین نے بتایا ہے کہ بدھ کی شام پانچ مسلح افراد نے کرکوک جانے والی ایک بس کو روک کر اُس میں سوار فوجیوں کے سروں میں گولی مار کر انہیں ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ عراق میں اتوار کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر تشدد میں جو وقتی کمی ہوئی تھی، اس میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ مسلح مزاحمت کاروں نے انتخابات کے عمل کو درہم برہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ جنرل امین نے بتایا کہ یہ فوجی چھٹی ختم کر کے موصل سے لوٹ رہے تھے کہ انہیں ژوب کے قریب روک کر ہلاک کر دیا گیا۔ عراق میں جاری مزاحمت میں زیادہ تر سنی طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان شامل ہیں جو عراقی سکیورٹی فورسز کو بارہا نشانہ بناتے رہے ہیں کیونکہ باغیوں کے خیال میں یہ سکیورٹی اہلکار ملک میں موجود امریکی اور دیگر غیر ملکی فوج کے ساتھی ہیں۔ دوسری طرف طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعقوبہ میں مسلح افراد کے حملے سے امریکی فوجی اڈے کی طرف ڈیوٹی پر جانے والا ایک شخص ہلاک اور اس کے چار ساتھی زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اڈے پر داغا گیا ایک مارٹر اپنے نشانے سے چوک گیا جس کے نتیجے میں عراق کے شمالی شہر تل افر میں دو شہری ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ ادھر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے عراقی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبہ الانبار کے گورنر قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔ ان کی گاڑی کو رمادہ میں سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم پولیس کے بقول گورنر کے محافظوں کی جوابی فائرنگ سے قریب کھڑی ایک خاتون زخمی ہو گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||