BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 February, 2005, 17:38 GMT 22:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کی قانونی حیثیت مشکوک ہے
News image
’منتخب حکومت عراقی عوام کی نمائندہ نہیں ہوگی۔‘
عراق میں سنی علماء کے ایک سرکردہ گروپ نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں چونکے کئی سنی شہریوں نے حصہ نہیں لیا اس لئے ان کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔

ان علما نے عراق کی سنی آبادی کو ملک میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کی بنا پر الیکشن میں حصہ نہ لینے کی ترغیب دی تھی۔

عراق کے حالیہ انتخابات کو مقامی انتظامیہ، امریکہ اور اقوام متحدہ نے جمہوریت کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

لیکن علما کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ ان الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والی کوئی بھی حکومت عراقی عوام کی نمائندہ نہیں ہوگی۔ گروپ کا کہنا ہے کہ مختلف فرقوں، جماعتوں اور دیگر عناصر کی طرف سے ان الیکشن میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ان انتخابات کی قانونی حیثیت بہت کم ہے اور نتیجتاً جو بھی حکومت اور پارلیمینٹ سامنے آئے گی وہ ملک کے لئے نیا آئین بنانے کی اہل نہیں ہوگی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ وہ انُ عراقی عوام کی پسند کا احترام کریں گے جنہوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا لیکن ان کے نتیجے میں سامنے آنے والی نئی حکومت کو بہت محدود اختیارات والی حکومت تصور کریں گے۔

عراق میں الیکشن کے نتائج مرتب کرنے میں مصروف حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بغداد سمیت کئی سنی علاقوں میں خاصے کم ووٹ پڑے۔

عراقیوں کی رائےعراقیوں کی رائے
ووٹنگ کے بعد عراقی شہریوں کا ردعمل
امریکی فوجیعراق: الیکشن کے بعد
عراق سے غیرملکی فوجیں کب واپس جائیں گی؟
عراقخورد برد کس نے کی؟
عراقی تعمیر نو کے بھاری فنڈز لاپتہ ہوگئے ہیں
انتخاباترپورٹر لاگ
عراقی انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد