 |  ’منتخب حکومت عراقی عوام کی نمائندہ نہیں ہوگی۔‘ |
عراق میں سنی علماء کے ایک سرکردہ گروپ نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں چونکے کئی سنی شہریوں نے حصہ نہیں لیا اس لئے ان کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔ ان علما نے عراق کی سنی آبادی کو ملک میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کی بنا پر الیکشن میں حصہ نہ لینے کی ترغیب دی تھی۔ عراق کے حالیہ انتخابات کو مقامی انتظامیہ، امریکہ اور اقوام متحدہ نے جمہوریت کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ لیکن علما کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ ان الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والی کوئی بھی حکومت عراقی عوام کی نمائندہ نہیں ہوگی۔ گروپ کا کہنا ہے کہ مختلف فرقوں، جماعتوں اور دیگر عناصر کی طرف سے ان الیکشن میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ان انتخابات کی قانونی حیثیت بہت کم ہے اور نتیجتاً جو بھی حکومت اور پارلیمینٹ سامنے آئے گی وہ ملک کے لئے نیا آئین بنانے کی اہل نہیں ہوگی۔ گروپ کا کہنا ہے کہ وہ انُ عراقی عوام کی پسند کا احترام کریں گے جنہوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا لیکن ان کے نتیجے میں سامنے آنے والی نئی حکومت کو بہت محدود اختیارات والی حکومت تصور کریں گے۔ عراق میں الیکشن کے نتائج مرتب کرنے میں مصروف حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ بغداد سمیت کئی سنی علاقوں میں خاصے کم ووٹ پڑے۔
|