BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 January, 2005, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی تعمیر نو کے بھاری فنڈز غائب
عراق
ان فنڈز کے استعمال میں بے احتیاطی پر بہت سے عراقی مشتعل ہیں
عراق کی تعمیر نو کے لیے تیل کی آمدنی سے حاصل کیے گئے تقریباً نو ارب ڈالر کے فنڈز لاپتہ ہوگئے ہیں۔

بی بی سی کے ایک پروگرام کے مطابق عراق پر امریکی قبضے کے دوران تیل کی تجارت سے 20 ارب ڈالر کا منافع حاصل کیا گیاتھا تاہم اس میں سے آٹھ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی رقم لاپتہ ہے اور کسی کو نہیں معلوم کہ اس رقم کا کیا بنا۔

امریکی حکومت کے آڈیٹرز نے عراق میں اتحادی افواج کی جانب سے فنڈز کے استعمال میں بد انتظامی پر کڑی تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کو جس لاکر میں رکھا گیا تھا اس کی چابی ایک دفتر میں موجود ایک کھلے بیگ میں رکھی گئی تھی۔

چیف آڈیٹر جنجر کروز کا کہنا ہے’اقوام متحدہ کی قرارداد کے برعکس جس میں کہا گیا تھا کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے جمع کی جانے والی رقم صرف اور صرف عراقیوں کی بہبود کے لیے استعمال ہو، اتحادی فوج کا اندرونی کنٹرول نامناسب تھا‘۔

اس سے قبل بھی گزشتہ سال آڈیٹرز کی ایک رپورٹ میں یہ شواہد پیش کیے گئے تھے کہ عراق کی تعمیر نو کے لیے جمع شدہ فنڈز کے ساتھ بے احتیاطی برتی جارہی ہے۔

ایک موقع پر ڈیڑھ ارب ڈالر کے فنڈز تین ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بینک تک پہنچائے گئے تھے کیونکہ ان کا وزن 14 ٹن تھا۔ تاہم بینک میں رقم جمع کرانے کی کوئی رسید منظر عام پر نہیں آئی۔

ایک امریکی ادارے پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے جعلی کمپنیوں کے نام پر اور جعلی رسیدیں دکھا کر اپنے بھاری منافع ظاہر کیے ہیں۔ دیگر کمپنیوں نے ناجائز کمیشن وصول کیےہیں جو کہ تمام کے تمام عراقی پیسے سے حاصل کیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق ان فنڈز کے استعمال میں بے احتیاطی پر بہت سے عراقی مشتعل ہیں۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب عراقی تیل سے حاصل کی گئی رقم غیر ملکی کاروباری اداروں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

عراقی گورننگ کونسل کے ایک سابق برطانوی مشیر کلاڈ ہینکیس ڈریلزما کا کہنا ہے کہ فنڈز پر کنٹرول کی کمی امریکی حکومت کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔

آڈیٹرز کی رپورٹ کے جواب میں اتحادی افواج کے سابق سربراہ پال بریمر نے کہا ہے کہ آڈیٹرز ان حالات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں جن میں اتحادی افواج عراق میں کام کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اکاؤنٹنگ کے قوانین کو جنگی حالات والے علاقوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

عراقعراق کےحساس علاقے
عراق کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی نقشہ
پچاس سال پہلے پچاس برس پہلے۔۔۔
عراق میں الیکشن: وسعت اللہ خان کی بات سے بات
انتخاباترپورٹر لاگ
عراقی انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال
امریکی فوجیعراق: الیکشن کے بعد
عراق سے غیرملکی فوجیں کب واپس جائیں گی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد