BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 February, 2005, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: بم دھماکہ، فائرنگ 18 ہلاک
عراق
طہٰ الامیری بصرہ کی کریمنل عدالت کے سابق چیف جج تھے
عراق میں تشدد کی حالیہ وارداتوں میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سترہ افراد ایک کار بم دھماکے میں مارے گئے جبکہ بصرہ میں ایک سینئیر جج کو گولی مار دی گئی۔

مقامی پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کار بم دھماکہ مصیب نامی قصبے میں ایک ہسپتال کے نزدیک مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر تیس منٹ پر ہوا۔

مرنے والے تمام افراد عام شہری تھے جبکہ اس دھماکے میں سولہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

مصیب نامی قصبے میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے۔کار بم کا تازہ ترین دھماکہ اس علاقے میں ہوا ہے جو کہ پر تشدد کارروائیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس سے قبل عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر کے طہٰ الامیری نامی ایک جج کو ہلاک اور ان کے ڈرائیور کو زخمی کر دیا۔اس سے قبل بصرہ میں ہی ایک عربی چینل کے رپورٹر اور اس کے بیٹے کو گولی مار دی گئی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ طہٰ الامیری بصرہ کی فوجداری عدالت کے سابق چیف جج تھے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران عراق میں تشدد کی وارداتوں میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔ بغداد میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ عراق میں تشدد دوبارہ اسی طرح شروع ہوگیا ہے جیسا کہ انتخابات سے پہلے تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد