عراق پر نیٹو متحد ہے: رائس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ، کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ نیٹو کے وزرائے خارجہ کے درمیان صدام حسین کی معزولی کے بعد سے اب تک عراق کے معاملے میں بہترین بات چیت ہوئی ہے۔ مس رائس نے برسلز میں نیٹو ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے بعد کہا کہ اتحاد میں اتفاق رائے ہے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی احساس ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو چین پر یورپی اتحاد کی جانب سے لگائی گئی اسلحہ کی خرید و فروخت پر پابندی کے اٹھائے جانے اور ایران کے مبینہ جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش ہے۔ امریکی وزیر دفاع، ڈونلڈ رمزفیلڈ بھی یورپ میں مذاکرات کریں گے۔ جب مس رائس برسلز میں یورپی اتحاد کے حکام سے ملاقات کریں گی تب مسٹر رمزفیلڈ نیس میں وزرائے دفاع سے مذاکرات کرینگے۔ برسلز میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یورپ اور مشرق وسطی کا 8 روزہ دورہ اب اختتام کے قریب ہے جس کے دوران انہوں نے عراق کے معاملے پر یورپی اقوام کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی۔ مس رائس کے عراق پر بیانات کا نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ ڈی ہوپ شیفر نے اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں حالیہ تاریخی انتخابات کے بعد امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا ہے۔ تاہم نیٹو مذاکرات کے بعد برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مس رائس نے کہا کہ امریکہ اور یورپی اتحاد کے درمیان چین پر یورپی اتحاد کی اسلحے کی خرید و فروخت پر عائد پابندی اٹھانے کے معاملے پر بحث ابھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور علاقائی توازن کے حوالے سے تشویش ہے۔ مس رائس نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں علاقے میں فوجی عدم توازن، ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔ مس رائس نے ایران کے حوالے سے اپنی اس وارننگ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنی عالمی ذمہ داریوں کا پاس کرنا ہوگا۔ برسلز پہنچنے سے پہلے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں مسز رائس نے کہا تھا کہ یورپی ملکوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||