رائس اور رمزفیلڈ یورپ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جاری اپنی کارrوائیوں کے لئے مزید حمایت حاصل کرنے کے مقصد سے بش انتظامیہ کے دو سینyئر اہلکار اس وقت یورپ میں ہیں ۔ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ فرانس پہنچے ہیں جہاں انہوں نے نیٹو کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق میں کارروائیوں کے لyے مزید حمایت دیں۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس برسلز گئی ہیں۔ برسلز میں وہ نیٹو اور یوروپی یونین کے رکن ملکوں سے مذاکرات کریں گی۔ امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے دوران ان ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی آگئی تھی۔ فرانس اور جرمنی سمیت کچھ نیٹو ممالک نے کہا تھا کہ انہیں عراق میں جاری کارروائیوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ابتدا میں اسپین نے اپنے فوجی دستے عراق بھیجے تھے لیکن بعد میں انہیں واپس بلا لیا گیا۔ پیرس میں جب مسٹر رمزفیلڈ فرانس کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے تو توقع ہے کہ وہ نیٹو ممالک کو اس بات کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ عراق میں مقامی مسلح افواج کی تربیت کے مشن کے لیے اپنی افواج عراق بھیجیں۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر یہ مانتے ہیں کہ عراقی افواج کی تربیت کے حتمی انتظامات نیٹو سربراہ کانفرنں میں ہی طے کیے جائیں گے جو 22 فروری کو برسلز میں ہوگی ۔ بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار پال ویلش کا کہنا ہے کہ فرانس میں نیٹو رکن اسپین اور لتھوانیا شاید مغربی افغانستان میں نئی کارروائیوں کی قیادت کرنے کے لئے رضامند ہو جائیں جہاں نیٹو کی افواج پہلے سے ہی موجود ہیں۔ پنٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ مسٹر رمزفیلڈ وہاں عراقی کارروائیوں کے لیے کوئی معافی نہیں مانگیں گے بلکہ ان کے اس دورے کا مقصد فرانس کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا ہے جو گزشتہ چند سالوں میں خاصے کشیدہ ہو گئے تھے۔ دوسری طرف کونڈولیزا رائس برسلز میں ہونے والی کانفرنس میں صدر بش کی شرکت سے پہلے نیٹو ممالک سے مذاکرات کر رہی ہیں۔ اپنے اس دورے کے دوران محترمہ رائس برطانیہ ، جرمنی ، روس ، اسرائیل اور فلسطینی حکام سے ملاقات کریں گی ۔ کیا کونڈو لیزا رائس ان فاصلوں کو ختم کر سکتی ہیں ؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ رشتے ہیں جن کے بارے میں صرف بات نہیں ہوتی بلکہ ان رشتوں کو نبھایا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||