رمادی و بغداد: کم از کم 10 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رمادی اور بغداد کے شمال اور مغرب میں امریکی فوج اور عراقی عسکریت پسندوں کے درمیان چھڑپوں میں کم از ک دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رمادی اور بغداد کے مذکورہ بالا علاقے سنی اکثریتی علاقے ہیں اور امریکی فوجیوں کو ان علاقوں میں اس سے پہلے مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکی فوجی رمادی میں سنی مزاحمت کا صفایا کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ رمادی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوجیوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان فائرنگ کی آوازیں سنی تھی جو خاصی دیر تک جاری رہیں۔ اس کے علاوہ مزاحمت کاروں نے شمالی شہر کرکوک میں ایک پائپ لائن کو دھماکے سے آڑا دیا ہے۔ یہ پائپ لائن ملک میں تیل کی ترسیل کے نظام میں اہم حثیت رکھتی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں تین عراقی ہلاک اور کم از کم پندرہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد میں سڑک پر بم دھماکے میں کم از کم دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مزاحمت کارروں کا نشانہ کون تھا۔ امریکی فوجی ترجمان کے مطابق ایک امریکی ٹینک اس وقت علاقے میں موجود تھا۔ بغداد کے جنوبی علاقے میں پولیس کے مطابق گیارہ لوگوں کو اغوا کر لیا گیاہے۔ اغوا کی یہ وارداتیں جمعہ سے شروع ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||