عراق: تین امریکی ہلاک، آٹھ زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی حکام نے بتایا ہے کہ بغداد کے شمال میں ہونے والے ایک طاقتور بم دھماکے میں کم از کم تین امریکی فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں پر بغداد سے بیس میل دور ترمیہ کے علاقے میں حملہ کیا گیا۔ اگرچہ موصولہ تفصیلات ابتدائی نوعیت کی ہیں تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی پیدل گشت کر رہے تھے جب ان کے نزدیک ایک بم پھٹا۔ امریکی فوج کی تھرڈ انفنٹری ڈویژن کے لیفٹیننٹ کرنل کلیفورڈ کینٹ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ بہت سے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں‘۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے کے رہائشیوں اور اس کے نمائندے نے دھماکے کے بعد بارہ کے قریب فوجیوں کو جائے وقوع پر پڑے دیکھا۔ ایک عینی شاہد ولید ناہد نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ میں گھر کی جانب جا رہا تھا تب امریکی فوجیوں کا ایک گروہ سڑک پر گشت کر رہا تھا اور پانچ بکتر بند گاڑیاں ان کے پیچھے کھڑی تھیں۔ اس وقت میں نے ایک زور دار دھماکا سنا اور مجھے انسانی جسم ہوا میں اڑتے دکھائی دیے‘۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکے کے پندرہ منٹ بعد ایک ہیلی کاپٹر جائے وقوع پر پہنچا اور اس میں لاشوں اور زخمیوں کو لے جایا گیا ‘۔ دھماکے کے بعد عراقی اور امریکی افواج نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||