BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 February, 2005, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق دہشتگردی کا گڑھ بن سکتا ہے‘
News image
سی آئی اے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں جاری کشیدگی کے سبب اسلامی شدت پسندوں کو نہ صرف تربیت مل رہی ہے بلکہ ان کے رابطوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو بیرونی ممالک پر مزید حملوں میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

بحیثیت ڈائریکٹر سی آئی اے پورٹرگوس پہلی بار عوامی سطح پر سامنے آئے اور بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی تنازعہ ’شدت پسندوں کا مقصد حیات‘ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف موقع ملنے کی بات تھی کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے وسیع تر تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔

پورٹر گوس نے یہ بیان سینیٹ میں امریکہ کو لاحق خطرات سے متعلق ہونے ایک سماعت کے دوران دیا۔

News image

انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے واقعات کو گزرے تین برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود شدت پسند امریکہ کے اندر حملوں کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈائریکٹر سی آئی اے نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور ایرانی باغیوں کی مدد کے علاوہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میوئلر نے بھی سینیٹ کے سامنے بیان دیا اور کہا کہ ’بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں خصوصاً القاعدہ کی طرف سے اب بھی شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کے خفیہ اداروں کی دوبارہ جانچ کی جائے تاکہ عراق جنگ سے پہلے کی گئی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔

امریکی ڈالرآخر کتنی خورد برد؟
اتحادی فوج پر ایک بار پھر بدعنوانی کا الزام
عراقکیا صحیح کیا غلط
عراقی معاملات اور امریکیوں کا اختلاف رائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد