’عراق دہشتگردی کا گڑھ بن سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سی آئی اے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں جاری کشیدگی کے سبب اسلامی شدت پسندوں کو نہ صرف تربیت مل رہی ہے بلکہ ان کے رابطوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو بیرونی ممالک پر مزید حملوں میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ بحیثیت ڈائریکٹر سی آئی اے پورٹرگوس پہلی بار عوامی سطح پر سامنے آئے اور بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عراقی تنازعہ ’شدت پسندوں کا مقصد حیات‘ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف موقع ملنے کی بات تھی کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے وسیع تر تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ پورٹر گوس نے یہ بیان سینیٹ میں امریکہ کو لاحق خطرات سے متعلق ہونے ایک سماعت کے دوران دیا۔
انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے واقعات کو گزرے تین برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود شدت پسند امریکہ کے اندر حملوں کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر سی آئی اے نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور ایرانی باغیوں کی مدد کے علاوہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میوئلر نے بھی سینیٹ کے سامنے بیان دیا اور کہا کہ ’بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں خصوصاً القاعدہ کی طرف سے اب بھی شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کے خفیہ اداروں کی دوبارہ جانچ کی جائے تاکہ عراق جنگ سے پہلے کی گئی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||