امریکہ، دہشت گردی کا خوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں انٹیلی جنس کے اعلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروہ اب بھی امریکہ میں دشت گردی کی وراداتیں کرنے کی کوشیش کر رہے ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ پورٹر گوس نے ان خدشات کا اظہار سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت کے دوران ایک بیان دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی صورت حال نے شدت پسندوں کو ایک مقدس فراہم کر دیا ہے۔ پورٹر گوس نے کہا کہ امریکہ پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملہ ان کے خیال میں بدستور موجود ہے اور ایسا کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ دیگر انٹیلی جنس حکام کا بھی یہی خیال ہے کہ عراق پر امریکی حملے نے القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو رضاکار بھرتی کرنے کا ایک کھلا میدان مہیا کیا ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ نے سینیٹ کے ارکان کو بتایا کہ القاعدہ تنظیم اب بھی امریکی خفیہ اداروں کو دھوکہ دے کر امریکی سرزمین پر دہشت گردی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے ارکان کا حیاتیاتی اور کمیائی ہتھیاروں سے حملے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنی جہادی گروپوں سے خطرے کا القاعدہ صرف ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ابو مصب الزرقاوی حالات سے فائدہ اٹھا کر عراق سے باہر دہشت گرد حملے کرانے کے لیے رضا کار بھرتی کر رہا ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میولر نے کہا کہ ان کی ایجنسی کی ترجیح امریکہ میں موجود القاعدہ کے خفیہ سیلوں کے خطرے سے نبٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ امریکی جیلوں میں اورامریکہ بھر کی مساجد میں نو مسلموں کو دہشت گردی کے لیے تیار کرنے کی کوشیش ہورہی ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ نے ایٹمی پھلاؤ کے خطرے پر بھی تفصیل سے بات کی۔ ایران کے شہاب تین میزائیل کا حوالے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا سی آئی اے ابھی تک پاکستانی جوہری سائسندان عبدالقدیر خان کی کارروائیوں کی تفصیلات معلوم نہیں کر سکی ہے۔ پورٹر گوس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ شمالی کوریا کو یورینیم افزودہ کرنے کی ٹیکنالوجی عبدالقدیر خان نے مہیا کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ پائی ہے اور اس بات کا خطرہ موجود ہے ابھی کئی دوسرے عبدالقدیر خان اپنے کام میں مصروف ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||