BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی دھماکہ یا حملہ نہیں ہوا: ایران
ایران کی جوہری تنصیب
امریکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر جاسوسی طیاروں نے نیچی پرواز کی تو انہیں مار گرایا جائے گا
ایرانی حکام نے ملک کے جنوب میں کسی بڑے دھماکے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ سپریم سکیورٹی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نہ تو کسی قسم کا دھماکہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی حملہ۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل اس معاملے کا جائزہ لے رہی کہ سرکاری ٹیلی ویژن چینل دھماکے سے متعلق نشر ہونے والی خبر کہاں سے آئی تھی۔

ایرانی ٹیلی ویژن چینل العالم نے خبر دی تھی کہ ملک کے جنوب میں واقع جوہری تنصیبات کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے اور قیاس ظاہر کیا تھا کہ اس کا سبب میزائل ہو سکتا ہے۔ بعد میں یہ خبر دی گئی کہ غالباً یہ کسی جہاز سے غلطی کی وجہ سے گرائے جانے والے فیول ٹینک کی وجہ سے ہوا۔

ترجمان نے ان خبروں کو ایران کے خلاف چلائی جانے والی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔

روس دیلم کے ایٹمی پلانٹ کی تعمیر میں ایران کی مدد کر رہا ہے، تہران میں روس کے سفارتخانے نے بتایا کہ انہیں ایٹمی پلانٹ سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں کوئی حملہ نہیں ہوا۔

ایران اور شام کا مشترکہ محاذ
ایران اور شام نے کہا ہے کہ وہ سمندر پار ممالک کی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ محاذ قائم کررہے ہیں۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے شام کے وزیر اعظم ناجی الاوطاری سے ملاقات کے بعد کہا ہے ’ہم خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر طرح سے شام کی مدد کے لیے تیار ہیں‘۔

ان دونوں ممالک پر امریکہ کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔

امریکی جاسوسی طیارے
ایران نے کہا تھا کہ اسے یقین ہے کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات کی جاسوسی کے لیے بغیر پائیلٹ کے طیارے استعمال کررہا ہے۔

ایران کے انٹیلی جینس کے وزیر علی یونسی نے کہا کہ فضا میں کئی چمکدار چیزیں اڑتی دیکھی گئی ہیں جن کے بارے میں انہیں پورا یقین ہے کہ یہ امریکی جاسوسی طیارے ہیں۔

اس ہفتہ کے آغاز پر دی واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسی کارروائیاں کئی ماہ سے جاری ہیں اور عراق کے اردگرد کے علاقوں میں ایسے جہاز پرواز کررہے ہیں جن میں جوہری سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کی اہلیت ہے۔

علی یونسی نے کہا ہے کہ امریکہ کافی عرصے سے جاسوسی طیارے استعمال کررہا ہے تاہم انہوں نے مزید کہا کہ وہ کچھ بھی ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ علی یونسی کے مطابق ایران کا یہ پروگرام شفاف اور کھلا ہے اور اس کی تمام فوجی سرگرمیاں جائز ہیں۔ تاہم امریکہ کا الزام ہے کہ یہ پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

انٹیلی جینس کے وزیر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان جاسوسی طیاروں نے نیچی پرواز کی تو انہیں مار گرایا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے انہوں نے ان امریکی اطلاعات کی تردید کی تھی کہ ایران میں امریکی فوجی کمانڈر داخل ہوگئے ہیں اور وہ ایران کی جوہری تنصیبات کی جاسوسی کریں گے۔ ایران کے وزیر دفاع نے ان اطلاعات کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ حقیقت سے زیادہ ہالی وڈ کی فلم کی کہانی معلوم ہوتی ہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ سلون شیلوم نے لندن میں کہا ہے کہ ایران چھ ماہ کے عرصے میں جوہری بم بنانے کی صلاحیت دکھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سائنسدان جلد ہی اپنے تجربات ختم کردیں گے اور ان کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے کافی معلومات ہوں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد