ایران نے وہ یورپی پیشکش مسترد کر دی ہے جس سے اس کی جوہری صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اس کے جوہری منصوبے کی مخالفت نہ کرے اور ’ آگ سے نہ کھیلے‘۔ یورپی مصالحت کاروں نے ایران ہیوی واٹر ایٹمی پلانٹ کو لائٹ واٹر ایٹمی ری ایکٹر سے تبدیل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے اس پیکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران آئندہ پندرہ برس میں جوہری ایندھن فراہم کرنے والا ایک بڑا فریق بننا چاہتا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کی بنا پر ایٹمی ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔  |  ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی |
اتوار کو شائع ہونے والے واشنگٹن پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپریل سنہ 2004 سے بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے جاسوسی طیارے ایرانی فضا میں بھیج رہا ہے تاکہ ایٹی ہتھیاروں کے منصوبے سے متعلق شواہد جمع کیے جا سکیں۔ یورپی مصالحت کار اس کوشش میں رہے ہیں کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کی بابت ضمانت دے۔ اس ضمن میں کی گئی بڑی کوششوں میں لائٹ واٹر ریسرچ ری ایکٹر کی پیشکش قابلِ ذکر ہے۔ حامد رضا آصفی کا کہنا ہے کہ ایران یورپی پیکش کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن وسطی ایران میارک کے مقام پر ہیوی واٹر ایٹمی پلانٹ کی تعمیر نہیں روکے گا۔ |