’خواتین صدارت کے قابل نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی گارڈین کونسل کے ایک اہلکار غلام حسین الہام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ایران میں اس سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں عورتیں بھی حصہ لے سکیں گیں۔ ایرانی ٹیلویژن نے گارڈین کونسل کے اہلکار غلام حسین الہام کے حوالے سے ایک رپوٹ نشر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر بننے کی اہلیت پر پورا اترانے والی عورتیں صدارتی امیدوار بن سکیں گی۔ گارڈین کونسل کے اہلکار نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ ان سے منسوب یہ بیان غلط ہے اور انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ علاقے میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غلام حسین الہام نے اپنا بیان مذہبی لیڈروں کے دباؤ میں آ کر بدل لیا ہے۔ ایران گارڈین کونسل نہ صرف ملک میں ہونے والے انتخابات کی نگرانی کرتی ہے بلکہ اس میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کی اہلیت کو بھی پرکھتی ہے۔ اس کونسل کا موقف ہے کہ عورتیں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہیں۔ ایرانی صدر محمد خاتمی اس سال جون میں اپنی دوسری مدت صدارت پوری کر لیں گے۔ ایرانی آئین کے مطابق صدارتی امیدوار کے لیے ’ رجال‘ ہونا ضروری ہے۔ رجال کی تشریح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔کچھ لوگوں کے مطابق ’رجال‘ سے مراد ’مرد‘ نہیں ہے لیکن گارڈین کونسل اس خیال سے متفق نہیں ہے۔ ایران کی موجودہ پارلیمنٹ میں، جس پر مذہبی لوگوں کا غلبہ ہے، گیارہ خواتین ممبران ہیں۔ملک کے پانچ نائب صدور میں سے بھی ایک عورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||