امریکی کمانڈوز ایران میں: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی جریدے نیویارکر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈوز ایران کے اندر گھس کر ممکنہ امریکی حملوں کے لئے فوجی ٹھکانوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ تحقیقاتی صحافت کے لیے جانے جانے والے معروف امریکی صحافی سیمور ہرش کی اس رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈوز پچھلے چھ ماہ سے ایران کے اندر موجود ہیں۔ ’دی نیو یارکر‘ نامی انگریزی رسالے کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک خبرمیں سیمور ہرش نے لکھا ہے کہ انہیں خفیہ اہلکاروں نے بتایا کہ بش انتظامیہ کا اگلا نشانہ ایران ہے۔ سیمور ہرش کے مطابق ایران کی ایٹمی تنصیبات اور میزائیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی سپیشل فورس کی یونِٹس کو مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے تقریباً دس ممالک میں خفیہ آپریشنز کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان تمام رپورٹس کی تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکشنز ڈائرکٹر ڈان بارٹلیٹ نے کہا کہ اس رپورٹ میں کافی ’خامیاں ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے نہیں لگتا کہ جو نتائج وہ اخذ کررہے ہیں وہ حقائق پر مبنی ہیں۔‘ سیمور ہرش نے اپنی یہ رپورٹ پینٹاگون سے منسلک سابق انٹیلیجنس اہلکاروں اور ان ذرائع کے حوالے سے تیار کی ہے جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگن میں ایک ’غیرفوجی‘ مشیر کا خیال یہ تھا کہ امریکہ کو ایران میں گھس کر جتنا ممکن ہوسکے فوجی تنصیبات کا خاتمہ کردینا چاہئے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سیمور ہرش کی یہ خبر غلط ہو سکتی ہے، تاہم اب تک کے ان کے صحافتی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان کے ان الزامات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ سیمور ہرش نے پچھلے سال عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی سے بھی پردہ اٹھایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||