جوہری تنصیبات، ایرانی فوج چوکس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد سلیمی نے کہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کسی ممکنہ حملے کے خطرے کے پیش نظر ملک کی مسلح افواج کو چوکس کردیا گیا ہے۔ جنرل سلیمی نے کہا ہے کہ ایرانی فضائیہ کی تمام تربیتی پروازوں کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے تاکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر اپنی حفاظتی پروازیں بڑہائی جاسکیں۔ ایرانی چیف آف آرمی سٹاف کا یہ بیان ملک کے سرکاری اخبار ایران میں شائع ہوا ہے ۔ اس اخبار کے نامہ نگاروں نے کہا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ایک محدود حملہ کرنے کے کے بارے میں غور کررہا ہے ۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ نے ایسے کسی بھی منصوبے کی تردید کی ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اُس نے اپنے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کے شبہ میں گزشتہ سال کے دوران دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ افراد خفیہ معلومات امریکہ اور اسرائیل کو مبینہ طور پہنچارہے تھے۔ ایران کے انٹیلیجنس کے وزیر علی یونسی نے کہا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے تین افراد اُن کے قومی ایٹمی پروگرام کے لئے کام کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ مشتبہ افراد ایران کی انقلابی عدالت کی تحویل میں ہیں جو قومی سلامتی سے متعلق جرائم کو نمٹاتی ہے۔ ایران نے پہلے کہا تھا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں سے کئی کا تعلق جلا وطن مسلح مزاحمتی گروپ، مجاہدین خلق کے سیاسی دھڑے، نیشنل کونسل آف ریسسٹنس آف ایران سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اِن گرفتار ہونے والے افراد نے وہ خفیہ معلومات افشا کیں جن کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی جوہری نگراں کمیٹی نے ایرانی ایٹمی پروگرام پر تفتیش شروع کی ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||